شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 48 of 297

شہدائے احمدیت — Page 48

خطبات طاہر بابت شہداء 42 خطبہ جمعہ ۳۰ را پریل ۱۹۹۹ء مولوی عبد الغفور صاحب اور آپ کا کمسن بچہ مانسہرہ اب میں صوبہ سرحد میں ہونے والی ایک شہادت کا ذکر کرتا ہوں یہ کیونکہ ایسے ضلع کی شہادت ہے جو کبھی سرحد میں شمار ہوتا ہے، کبھی پنجاب میں شمار ہوتا ہے یعنی ضلع ہزارہ تحصیل مانسہرہ۔مولوی عبدالغفور صاحب، آپ دس برس کی عمر میں قادیان پہنچے اور ۱۹۰۶ء میں حضرت مہدی معہود علیہ السلام کی بیعت سے مشرف ہوئے۔آپ کو قادیان کی پیاری اور پر نور برکت سے اس قدر محبت اور عقیدت ہوگئی کہ اپنے بڑے بھائی حکیم نظام جان صاحب کو بھی آنے کی ترغیب دی جس پر حکیم صاحب مستقل ہجرت کر کے قادیان ہی کے ہو گئے۔آپ کا معمول تھا کہ روزانہ اذان سے پہلے اٹھتے اور اپنے ملازم کو ہمراہ لے کر دریا سے پار چکیوں پر چلے جاتے تھے۔نماز فجر و ہیں ادا کرتے اور اسی عرصہ میں ان کا سات سال کا بچہ عبداللطیف چائے لے کر وہاں پہنچ جاتا۔دونوں ناشتہ کرتے اور زمین کی دیکھ بھال کے بعد اپنے گاؤں لوٹ آتے۔۲۱ ستمبر کو بوقت صبح آٹھ بجے آپ اپنے بچے عبد اللطیف کو لے کر اپنے گھر سے پن چکیوں کی نگہداشت کے لئے نکلے۔آپ چار فرلانگ تک گئے تھے کہ ایک کمین گاہ سے آپ پر بندوق کا فائر کیا گیا۔اس کے بعد آپ کو اور آپ کے بچے کو کلہاڑی سے شہید کر دیا گیا۔ظالم قاتل بھاگ گئے اور بے گور و کفن لاش کی نگرانی آپ کا گھر یلو کتا کرتا رہا جو کبھی آپ کی نعش کی طرف جا تا اور کبھی ان کے بچے کی نعش کی طرف جاتا تھا۔بس دیکھو کتے کو بھی خدا تعالیٰ نے ان بد بختوں پر فضیلت بخشی ہے۔وہ شہید کی نعشوں کی نگرانی کر رہا تھا اور ظالم اس سے لا پرواہ ہو کر اپنی خباثتوں میں مصروف ہو چکے تھے۔مولوی عبدالغفور صاحب نے اپنے پیچھے ایک بیوہ، تین لڑکے اور تین لڑکیاں یاد گار چھوڑیں۔اب ان سب کے خاندان گواہ ہونگے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کتنے فضل نازل فرمائے ہیں۔دنیا تو ان واقعات کو بھول سکتی ہے مگر خدا کبھی نہیں بھولتا اور اپنے بے شمار انوار کے ذریعہ ان کی اولا در اولا د پر ثابت کرتا چلا جاتا ہے کہ تم جو کچھ دنیا میں پا رہے ہو اور جو آخرت میں پاؤ گے وہ تمہارے بزرگ شہداء کی برکت ہے۔محترم داؤ د جان صاحب شہید اب یہ واقعہ۔شہادت ۱۹۵۶ء کی محترم داؤد جان شہید صاحب کی ہے، یہ بھی صوبہ سرحد کے