شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 46 of 297

شہدائے احمدیت — Page 46

خطبات طاہر بابت شہداء 40 40 خطبه جمعه ۳۰ ر ا پریل ۱۹۹۹ء تھی وہ پرائیویٹ سیکرٹری نے غلطی سے لکھ دی ہے تو اصل حصہ ان کے قتل کے واقعہ کا میں اس شخص کے الفاظ میں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے: میں سائیکل پر چک نمبر ۴۸ گیا جہاں ماسٹر تفریحی چھٹی پر اپنے گھر گیا ہوا تھا۔میں چک میں ٹھہرا رہا تا وقتیکہ وہ سکول آ گیا۔گاؤں کے چوک کی دکان پر میں نے ایک سگریٹ پیا۔جب میں باہر نکلا ماسٹر سکول میں نہ تھا۔مجھے یقین تھا کہ ماسٹر مرزائی ہے اور میں اسی نیت سے آیا تھا۔چک میں نے ایک الله سید سے پوچھا کہ آیا حضور نبی کریم عملے کے زمانے میں ہمارے بچوں کو پڑھانے پر کوئی کا فرمقر ر تھا۔اس ماسٹر کا کیا حق کہ وہ ہمارے چک میں مقیم ہے، زمین الاٹ کر رکھی ہے اور بچوں کو پڑھا رہا ہے۔اس کے بعد میں نے ایک لڑکے سے پوچھا کہ ماسٹر کہاں گیا ہے۔اس نے بتایا کہ وہ چک ۴۰/۳R کو گیا ہے۔میں نے پوچھا کہ سائیکل پر یا پیدل جواب ملا سائیکل پر۔میرے پاس اس وقت ایک چھرا تھا میں نے اس کو دو میل کے فاصلے پر جالیا اور وہاں میں نے اپنے سائیکل سے اتر کر اس کے سائیکل کو دھکادیا اور اسے گرالیا۔میں نے ماسٹر کو چھرے سے ایک ضرب لگائی اور وہ بھاگ کر چھوٹی نہر کے پانی میں گھس گیا۔چھرا ٹھیک نہ رہا۔میں نے اسے درست کیا اور پھر پانی میں اور ضر میں لگائیں۔میں اس کو مار رہا تھا کہ ادھر ادھر سے کچھ لوگ جمع ہو گئے اور انہوں نے مجھے روکا۔میں نے ان سے کہا مجھے نہ روکو میں ایک کا فر کوقتل کر رہا ہوں اور ایک اجنبی شخص نے مجھ سے سوالات کئے۔میں نے اس کو بھی یہی بتایا کہ میں نے ایک کا فرکو ہلاک کر دیا ہے۔پھر میں اوکاڑہ چلا آیا۔اوکاڑہ آکر کسی نے اس سے کوئی باز پرس نہیں کی۔جتنے بھی احمدیوں کے قاتل ہیں ان کے خلاف قانون مجرم ہے۔کسی انگریز مفکر نے بہت اچھی بات لکھی تھی کہ دنیا میں سب سے زیادہ بھیانک مظالم اس ملک میں توڑے جاتے ہیں جہاں قانون مجرم ہو چکا ہو۔اگر قانون مجرموں کی پشت پناہی کرتا ہے تو وہاں سب سے زیادہ بھیا نک مظالم