شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 47 of 297

شہدائے احمدیت — Page 47

خطبات طاہر بابت شہداء 41 معصوموں پر توڑے جاتے ہیں۔یہ فقرہ بعینہ پاکستان پر چسپاں ہوتا ہے۔چوہدری بدرالدین صاحب راولپنڈی خطبه جمعه ۳۰ ر ا پریل ۱۹۹۹ء اب میں چوہدری بدرالدین صاحب آف راولپنڈی کی شہادت کا ذکر کرتا ہوں جو ۱۰ را کتوبر ۱۹۵۰ء کو ہوئی۔ماسٹر غلام محمد صاحب کی دردناک شہادت کا زخم بالکل تازہ ہی تھا کہ صرف چند روز بعد جماعت احمد یہ راولپنڈی کے ایک سادہ مزاج اور خاموش طبع بزرگ اور صحابی چوہدری بدرالدین صاحب لدھیانوی گولی مار کر شہید کر دیئے گئے۔چوہدری صاحب موصوف ۱۸۹۰ء میں پیدا ہوئے تھے۔ابتدائی تعلیم قادیان میں پائی۔انہوں ۱۸۹۹ء کے لگ بھگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی۔عرصہ دراز جماعت احمد یہ لدھیانہ کے سیکرٹری مال اور سیکرٹری امور عامہ رہے۔فسادات ۱۹۴۷ء میں آپ گوالمنڈی راولپنڈی میں پناہ گزین ہو گئے تھے۔راولپنڈی میں احرار کانفرنسوں نے سخت اشتعال پھیلا دیا اور ٠ ا را کتوبر ۱۹۵۰ء ساڑھے چھ بجے شام گوالمنڈی کے باغیچہ میں آرہے تھے کہ فائر بریگیڈ کے پاس ایک شخص ولایت خان نے ان پر پیچھے سے فائر کیا اور گولی ان کی پشت کو چیرتے ہوئے پیٹ کی طرف سے نکل گئی۔اتفاق سے اس وقت ایک سب انسپکٹر پولیس نے جو کسی کام کے تعلق میں باہر سے راولپنڈی آئے ہوئے تھے قاتل کو گولی چلاتے دیکھ لیا اور اسے موقع پر ہی گرفتار کر کے اس کا پستول چھین لیا اور جیسا کہ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء کے فاضل جوں نے اپنی رپورٹ میں ذکر کیا ہے عینی شاہدوں میں سے ایک نے جس پر سیشن جج اور ہائی کورٹ دونوں نے اعتبار کیا ہے یہ بتایا کہ مجرم کو عین موقع پر گرفتار کیا گیا تو اس نے یہ اقرار کیا کہ میں نے بدر دین کو اس لئے ہلاک کیا کہ وہ احمدی ہے۔اور اس کا کچھ نہیں بنا۔چوہدری بدر دین صاحب گولی لگنے کی وجہ سے گر پڑے۔ان کے ایک داماد ڈاکٹر میر محمد صاحب قریشی نے آپ کو ایمبولینس کار کے ذریعہ سے سول ہسپتال پہنچایا مگر آپ جانبر نہ ہو سکے اور اگلے دن گیارہ بجے کے قریب ساٹھ سال کی عمر میں آپ کو شہادت کے ذریعے عمر جاودانی نصیب ہوئی۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔بے ہوشی کے عالم میں بھی آپ کی زبان پر مسنونہ دعائیں اور کلمہ طیبہ جاری رہا۔آپ اپنے خاندان میں اکیلے احمدی تھے مگر آپ نے اپنے پیچھے چونتیس افراد کا کنبہ بطور یادگار چھوڑا ہے۔