شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 45 of 297

شہدائے احمدیت — Page 45

خطبات طاہر بابت شہداء 39 ماسٹر غلام محمد صاحب اوکاڑہ خطبه جمعه ۳۰ را پریل ۱۹۹۹ء اب ماسٹر غلام محمد صاحب کی شہادت کا ذکر کرتا ہوں جو یکم اکتوبر ۱۹۵۰ء کو ہوئی۔یہ صوبہ سرحد کے یا غیر ملکوں کے نہیں پاکستان میں ہونے والے واقعات ہیں۔میجر محمود کا واقعہ بھی پاکستان ہی میں ہوا ہے۔اب پاکستان کے واقعات میں یہ دوسرا واقعہ ہے۔یکم اکتوبر ۱۹۵۰ء کو ایک احمدی مولوی نور دین سات دوسرے احمدیوں کے ساتھ تبلیغی مہم پر چک نمبر ۵ میں گیا۔یہاں کے غیر احمدیوں نے ان مبلغوں کوگھیر لیا۔پھر ان پر کیچڑ پھینکی اور ان کے چہروں پر کالک ملی اور گندے پانی میں سے انہیں ہنکا کر ریلوے سٹیشن اوکاڑہ پہنچایا۔پولیس میں اس واقعہ کی رپورٹ لکھوائی گئی جس پر ایک مینی مولوی فضل الہی زیر دفعہ ۳۴۲۱۴۷ زیرحراست لے لیا گیا۔دشمن یہ بہانہ ڈھونڈتے ہیں کہ ہمارے کسی مولوی کو پکڑیں یا کوئی جوابی کارروائی کریں تو اس کے نتیجہ میں ہم سارے ملک میں آگ لگا سکیں۔اس گرفتاری کے خلاف احتجاج کے طور پر اوکاڑہ میں دکانیں بند ہوگئیں اور تین اکتوبر کی رات کو ایک جلسہ عام ہوا جس میں ہزاروں اشخاص شامل ہوئے۔بہت سے مقررین نے تقریریں کیں جو بے انتہا اشتعال انگیز تھیں۔ایک مقرر نے جلسہ کے نوجوان حاضرین سے اپیل کی کہ مرزائی فرقے سے قوم کو نجات دلا ؤ اور بہت سے واقعات بیان کئے ، علم دین شہید کے اور دوسرے واقعات۔یہ ایک لمبی تفصیل ہے جس میں جانے کی ضرورت نہیں۔یہ تقریر سننے کے بعد محمد اشرف نے جو تقریریں سن چکا تھا ایک چھرے سے مسلح ہو کر غلام محمد کا تعاقب کیا جبکہ وہ اوکاڑہ جارہا تھا۔محمد اشرف نے غلام محمد کو ایک نہر کے قریب جالیا اور اس کے چھرا گھونپ دیا۔غلام محمد کا زخم کاری تھا چنانچہ وہ تھانے کو لے جانے سے پہلے ہی مر گیا۔محمد اشرف ایک مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس نے بیان دیا تفصیل اس کے منہ سے سنئے۔پہلے یہ کہا کہ تمبر میں پھر کہا کہ اکتو بر کی تیسری تاریخ کو اوکاڑہ میں ایک جلسہ ہوا جس میں رضوان ، بشیر احمد ، مولوی ضیاء الدین، قاضی عبدالرحمن ، چوہدری محبوب عالم اور صدر جلسہ نے جو غالبا قاضی تھے پر جوش تقریریں کیں جن میں بتایا کہ مرزائی نبی کریم کو گالیاں دیتے ہیں۔ہم حضور کی عظمت کے لئے اپنی جانیں دے دیں گے۔تقریر میں یہ کہا گیا کہ جولوگ ان کو پہچان کرنا بود کرنے پر آمادہ ہیں وہ اپنے ہاتھ اٹھا ئیں۔جلسے میں علم دین غازی کا بھی ذکر کیا گیا اور اس کی سرگزشت سنائی گئی۔یہ ساری تحریر میں نے اپنے قلم سے کاٹی ہوئی