شہدائے احمدیت — Page 37
خطبات طاہر بابت شہداء 37 خطبه جمعه ۳۰ را پریل ۱۹۹۹ء عین جلسہ کے سامنے پہنچ کر ان کی موٹر کا رٹھہر گئی اور اس کو دوبارہ چلانے کی ہر کوشش ناکام ہوگئی۔عین اس موقع پر ایک ہجوم موٹر کار کی بڑھا اور اس نے میجر محمود کو گھسیٹ کر نیچے اتار لیا۔میجر محمود نے بھاگ کر جان چھڑانے کی کوشش کی لیکن ان کا تعاقب کیا گیا۔اب دیکھیں شہادت کے وقت یہ بھاگنے کا کیا مطلب ہے۔ایک کابل کا شہزادہ ہے جو شہادت کی طرف بھاگ رہا ہے اور کچھ دوسرے ہیں جو شہادت سے بھاگ رہے ہیں۔یہ کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کو بار بار یہ سمجھایا جا چکا ہے اور سمجھایا جاتا رہے گا کہ اپنی شہادت کے وقت جوابی کارروائی نہ کریں کیونکہ اس کے نتیجہ میں پھر اور بھی اشتعال پھیلتا ہے اور بہت سے معصوم لوگ مارے جاتے ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ میجر صاحب شہید مجبور تھے کہ ان لوگوں کے چنگل سے نکلیں اور ان کی جوابی کارروائی سے کسی شخص کو کوئی گزند نہ پہنچ جائے جس کو بہانہ بنا کر پھر سارے پاکستان میں اشتعال انگیزی کی جاسکتی تھی۔تو بعض باتیں سمجھانی پڑھتی ہیں ورنہ تو عجیب لگتا ہے کہ ایک احمدی شہادت سے جہاں تک ممکن ہو بھاگنے کی کوشش کر رہا ہے۔چنانچہ آخر پتھر اور چھرے مار مار کر ان کو ہلاک کر دیا گیا۔ان کی پوری انتڑیاں پیٹ سے باہر نکل آئیں۔ان کی نعش کے پوسٹ مارٹم معائنہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے جسم پر کند اور تیز دھار والے ہتھیاروں سے لگائے گئے چھیں (۲۶) زخم تھے اور موت ایک تو صدمے سے دوسرے داخلی جریان خون یعنی خون اندر بہت بہہ جانے کی وجہ سے واقعہ ہوئی جو بائیں پھیپھڑ ہے، بائیں گردے اور جگر کے دائیں کنارے کے زخموں سے جاری ہوا تھا۔عدالت لکھتی ہے کہ کوئی شخص بھی اسلامی شجاعت کے اس کارنامے کی نیک نامی لینے پر آمادہ نہ ہوا اور بے شمار عینی شاہدوں میں ایک بھی ایسا نہ نکلا جوان غازیوں کی نشاندہی کر سکتا یا کرنے کا خواہشمند ہوتا جن سے یہ بہادرانہ فعل صادر ہوا۔لہذا اصل مجرم شناخت نہ کئے جاسکے اور مقدمہ بے سراغ ہی داخل دفتر کر دیا گیا۔حضرت مصلح موعودؓ کا رد عمل۔آپ نے ۲۱ ظہور / اگست ۱۹۴۸ء کو خطبہ جمعہ میں ان الفاظ میں اس شہادت پر تبصرہ کیا۔میجر محمود احمد صاحب کی شہادت کا رد عمل لوگوں کے اپنے نظریہ کے مطابق ہوگا۔اب یہ بھی حضرت مصلح موعودؓ کا انصاف ہے کہ سب کو ملزم نہیں کر رہے بلکہ جانتے ہیں کہ بہت سے شریف لوگ وہاں موجود ہوں گے جنہوں نے اس بات کو نا پسند کیا ہوگا مگر چونکہ شرافت