شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 38 of 297

شہدائے احمدیت — Page 38

خطبات طاہر بابت شہداء 38 خطبہ جمعہ ۳۰ را پریل ۱۹۹۹ء آج کل بزدل اور گونگی ہو چکی ہے اس لئے ہمیں ان کا علم نہیں ہوسکتا۔فرماتے ہیں اپنے اپنے نظریہ کے مطابق ہوگا۔بعض کا برا اور غیر اسلامی رد عمل ہوگا اور بعض کے نزدیک اس کا رد عمل اچھا ہو گا لیکن ایک رد عمل تو ایسا ہوتا ہے جو دیر تک چلتا رہتا ہے اور جس کے نتیجہ میں لوگوں کو حق قبول کر نے کی توفیق بھی ملتی رہی ہے۔فرماتے ہیں: یہ حملہ جو میجر محمود پر کیا گیا ہے، ہے تو اتفاقی حادثہ درحقیقت یہ حملہ احمدیت پر کیا گیا ہے۔میجرمحمود تو وہاں اتفاقا چلے گئے اگر کوئی اور احمدی ہوتا تو اس کے ساتھ بھی واقعہ پیش آتا کیونکہ میجر محمود پر کسی ذاتی عناصر کی وجہ سے حملہ نہیں کیا گیا بلکہ ان کے احمدی ہونے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔۔۔اس واقعہ سے ہمارے اندر جور د عمل ہونا چاہئے وہ یہ ہے کہ ہم پہلے سے بھی زیادہ انہماک اور تندہی سے تبلیغ کی طرف متوجہ ہوں۔مامور کی جماعتوں پر ظلم ہوتے ہیں اور وہ ظلموں کے نیچے بڑھتی اور پھولتی ہیں۔دشمنوں میں بھی شریف الطبع انسان ہوتے ہیں ان کے اندر ظلموں کو دیکھ کر دلیری پیدا ہو جاتی ہے اور سلسلے میں داخل ہو جاتے ہیں۔چنانچہ میجر محمود کی شہادت کے بعد ایک دوست آئے۔ان کے دل میں احمدیت کی سچائی گھر کر گئی۔پہلے بھی وہ سچائی کے قائل تھے لیکن ایمانی جرات پیدا نہ ہوئی تھی۔اس واقعہ نے ان کے اندر ایمانی جرات پیدا کر دی اور وہ یہ کہتے ہوئے کہ میجرمحمود احمد کی خالی جگہ اور اس کی کمی کو پورا کرنے کے لئے احمدیت میں داخل ہوتا ہوں، احمدیت میں داخل ہو گئے۔آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بھی حضرت حمزہ اور حضرت عمر کے واقعات اس کی تصدیق کرتے ہیں۔وہ ظلموں سے متاثر ہو کر ایمان کی روشنی میں منور ہوئے تھے۔تو اس قسم کے ظلم و تشدد کے واقعات جماعت کی ترقی کا باعث ہوتے ہیں۔اس لئے ہمیں زیادہ سے زیادہ وقت تبلیغ پر صرف کرنا چاہئے تا صحیح عقائد ان پر واضح ہو جائیں اور احمدیت کی سچائی کھل جائے“۔