شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 36 of 297

شہدائے احمدیت — Page 36

خطبات طاہر بابت شہداء 36 خطبه جمعه ۳۰ را بریل ۱۹۹۹ء افغانوی حکومت کی حد فاصل پہاڑ کی چوٹی پر واقع اور بالکل آزاد علاقہ ہے آگئے جہاں اپنے چچا زاد بھائی خالیدا د کی لڑکی سے نکاح کیا اور خدا تعالیٰ نے ایک لڑکا بھی دیا۔اب ان ظالموں کا کلیجہ دیکھیں۔کیسے پتھر دل انسان ہیں جو بد بختیوں سے اب تک بعض نہیں آ رہے۔لڑکے کی عمر بھی ڈیڑھ ماہ کی ہوئی تھی کہ ان کی بیوی کے بھائیوں نے اس ننھے معصوم بچے کو قتل کر دیا ، ذبح کر دیا اس بچے کو اور پھر غالبا چوتھے دن پندرہ فروری کو نہایت بے دردی اور بے رحمی سے تین گولیوں سے ہمارے بھائی کو قتل کر کے شہید کر دیا تین دن تک مرحوم کو ان ظالموں نے بغیر دفن کئے رکھ چھوڑا اس کے بعد انہیں کہیں پھینک دیا۔انالله وانا اليه راجعون۔ڈاکٹر میجر محمود احمد صاحب شہید کوئٹہ اب خلافت ثانیہ کے دور کی ایک شہادت جو ۱۹۴۸ء میں ہوئی اس کا ذکر کرتا ہوں۔ڈاکٹر میجرمحمود احمد صاحب شہید ، امرتسر کی مشہور احمدی قاضی فیملی کے چشم و چراغ قاضی محمد شریف صاحب ریٹائرڈ انجینئر لائکپور کے صاحبزادے اور قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے (کینٹب) کے بھتیجے تھے۔قاضی محمد اسلم صاحب مرحوم کو ہندوستان میں عظیم الشان علمی خدمات کرنے کی توفیق ملی ہے اور ان کا نام پنجاب کی علمی تاریخ میں بالخصوص ہمیشہ یادرکھا جائے گا۔ڈاکٹر صاحب بہت متدین نوجوان تھے۔انہوں نے قادیان میں بھی درویشی کے ایام کاٹے ہیں اور وہاں اپنے آپ کو وقف کیا تھا۔زمانہ درویشی کے ابتدائی ایام نہایت وفا گزاری سے قادیان میں گزارے اور گراں قدر طبی خدمات بجالاتے رہے۔واقعہ شہادت منقول از تحقیقاتی عدالت۔یہ تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ شائع ہوئی ہے اس میں سے یہ واقعہ لیا گیا ہے۔حج لکھتے ہیں مرزا بشیر الدین محمود احمد ۱۹۴۸ء کے موسم گرما میں کوئٹہ میں مقیم تھے۔ان کی موجودگی میں ایک نوجوان فوجی افسر میجر محمود جواحمدی تھا نہایت وحشیانہ طریقے سے قتل کر دیا گیا۔اس جلسے میں بعض مولویوں نے تقریریں کیں اور ہر شخص نے اپنی تقریر کے لئے ایک ہی موضوع یعنی ختم نبوت اختیار کیا۔ان تقریروں کے دوران قادیانیوں کے کفر اور اس کے نتائج کی طرف بار بار اشارے کئے گئے۔ابھی یہ جلسہ ہو رہا تھا کہ میجر محمود ایک مریض کو دیکھنے کے بعد واپس آتے ہوئے جلسہ گاہ کے پاس سے گزرے۔اب جو واقعہ ہوا ہے یہ بظاہر ایک حادثہ ہے مگر بلا شبہ یہ مشیت ایزدی تھی کہ