شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 35 of 297

شہدائے احمدیت — Page 35

خطبات طاہر بابت شہداء 35 مکرم شیخ احمد فرقانی صاحب عراق خطبہ جمعہ ۳۰ را پریل ۱۹۹۹ء اب میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے دور کی ایک شہادت کا ذکر کرتا ہوں جو شیخ احمد فرقانی صاحب کی شہادت ہے اور یہ عراق میں واقع ہوئی ، ۱۶ جنوری ۱۹۳۵ء کو۔ایک عرب نوجوان الحاج عبداللہ صاحب جو ایک نہایت مخلص احمدی ہیں اور ایک لمبا عرصہ قادیان میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آج کل اپنے وطن میں تبلیغ احمدیت میں مصروف ہیں۔حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں ایک عریضہ لکھا جو حال ہی میں پہنچا ہے۔آج بغداد سے خط موصول ہوا ہے جس میں لکھا ہے کہ شیخ احمد فرقانی جو عرصہ دس سال سے احمدیت کی وجہ سے مخالفین کے ظلم و ستم برداشت کرتے چلے آرہے ہیں جن کا لوگوں نے بائیکاٹ کر رکھا تھا، ان کو شہید کر دیا گیا ہے۔اناللہ وانا الیه راجعون۔وہ لواء کرکوک میں اپنے گاؤں میں رہتے تھے جو بغداد سے قریب دو سو میل کے فاصلہ پر ہے۔جب میں بغداد میں تھا تو وہ کئی ہفتے میرے ساتھ آکر رہتے تھے۔حضرت مسیح موعود سے بے حد محبت اور اخلاص رکھتے تھے۔آپ کے فارسی اور عربی اشعار سن کر وجد میں آجاتے تھے اور زار زار رونے لگ جاتے تھے۔یہ خط ان کا الفضل قادیان دارالامان مورخه ۱۴ فروری ۱۹۳۵ء کو شائع ہوا۔حضرت احمد الفرقانی نے مصائب الانبياء والابرار على ايدى السفلة والاشرار “ کے نام سے ایک کتاب تصنیف کی تھی جو چھپ نہ سکی لیکن اس کتاب کا ایک قیمتی اقتباس مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری مرحوم نے اپنے رسالہ البشری (ربیع الثانی ۱۳۵۴ھ مطابق جولائی ۱۹۲۵ء صفحہ ۲۶، ۲۷) میں شائع کر دیا تھا اگر کسی نے یہ خط دیکھنا ہو تو اس رسالہ سے دیکھا جاسکتا ہے۔مکرم ولی دادخان صاحب افغانستان اب اس کے بعد جو شہادت کا نمبر آتا ہے وہ بھی افغانستان کی ہی شہادت ہے۔ولی داد خان صاحب افغانستان - تاریخ شہادت ۱۵ / فروری ۱۹۳۹ء۔ولی داد خان صاحب جو ایک لمبا عرصہ دارالامان میں تعلیم حاصل کرتے رہے پھر وہ اپنے آپ کو تحر یک جدید کے سلسلہ میں حضرت امیر المومنین حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ارشاد پر وقف کر کے حضور کے منشاء کے بموجب تخمیناً تین سال تک مجاہد تحریک جدید ر ہے۔اس کے بعد وہ بخوشی علاقہ خوست یعنی اپنے گاؤں جو کہ برطانوی اور