شہدائے احمدیت — Page 34
خطبات طاہر بابت شہداء 34 =4 خطبہ جمعہ ۳۰ ر ا پریل ۱۹۹۹ء جب یہ خبر قادیان پہنچی تو حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے اس سلسلہ میں منعقد ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔آپ وہاں موجود تھے وہاں ایک اجلاس ہوا جس سے آپ نے خطاب کیا اور اس خطاب میں فرمایا:۔" مجھے جس وقت گورنمنٹ کابل کی اس ظالمانہ اور اخلاق سے بعید حرکت کی خبر ملی میں اسی وقت بیت الدعا میں گیا اور دعا کی الہی تو ان پر رحم کر اور ان کو ہدایت دے اور ان کی آنکھیں کھول تا وہ صداقت اور راستی کو شناخت کر کے اسلامی اخلاق کو سیکھیں اور انسانیت سے گری ہوئی حرکات سے باز آجائیں۔میرے دل میں بجائے جوش اور غضب کے بار بار اس امر کا خیال آتا تھا کہ ایسی حرکت ان کی حد درجہ بے وقوفی ہے۔اس تقریر کے ذریعے میں آئندہ آنے والی نسلوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ طاقت اور قوت کے زمانے میں اخلاق کو ہاتھ سے نہ دیں کیونکہ اخلاق اصل وہی ہیں جو طاقت اور قوت کے وقت ظاہر ہوں۔ضعیفی اور نا توانی کی حالت میں اخلاق اتنی قدر نہیں رکھتے ہیں جبکہ انسان بر سر حکومت ہو۔اس لئے میں آئندہ آنے والی نسلوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جب خدا تعالیٰ ان کو ہماری ان حقیر خدمات کے بدلے میں حکومت اور بادشاہت عطا کرے گا“ اور یہ ضرور ہوگا اٹل تقدیر ہے جو کسی قیمت بھی ٹالی نہیں جاسکتی۔ان کی آنکھوں کے سامنے ایسا ہو گا کہ جب حکومت اور بادشاہت عطا کرے گا تو یہ حکومت اور بادشاہت ان پر انوں کی قربانیوں کے نتیجہ میں عطا فرمائے گا۔تو وہ ان ظالموں کے ظلموں کی طرف توجہ نہ کریں۔جس طرح ہم اب برداشت کر رہے ہیں وہ بھی برداشت سے کام لیں۔طاقتور ہونے کے با وجود برداشت سے کام لیں اور اخلاق دکھانے میں ہم سے پیچھے نہ رہیں بلکہ 66 ہم سے آگے بڑھیں۔“ الفضل قادیان ۱۹ / فروری ۱۹۲۵ء)