شہدائے احمدیت — Page 32
خطبات طاہر بابت شہداء 32 32 خطبه جمعه ۳۰ را پریل ۱۹۹۹ء جائے۔اس فیصلہ کے مطابق تقریباً دو ماہ کی قید و بند کی مصیبتیں جھیلنے کے بعد ۳۱ /اگست کو پولیس نے مولوی صاحب کو لے کر کابل کی تمام گلیوں میں پھر ایا اور ہر جگہ یہ منادی کہ یہ شخص ارتداد کی پاداش میں سنگسار کیا جائے گا لوگ اس موقع پر حاضر ہو کر اس میں شامل ہوں۔دیکھنے والوں کی شہادت ہے کہ جس وقت آپ کو گلیوں میں پھرایا جا رہا تھا اور سنگساری کا اعلان کیا جا رہا تھا تو آپ گھبرانے کی بجائے مسکرا رہے تھے۔گویا آپ کو موت کا فتویٰ نہیں دیا جا رہا تھا بلکہ عزت افزائی کی خبر سنائی جا رہی تھی۔عصر کے وقت آپ کو کابل کی چھاؤنی کے میدان میں سنگسار کرنے کے لئے لایا گیا تو آپ نے اس آخری خواہش کا اظہار کیا جو صحابہ آنحضرت ﷺ کی سنت کی یاد دلانے والے ایک واقعہ ہے۔اس آخری خواہش کا اظہار کیا کہ اس دنیا کی زندگی ختم ہونے سے پہلے ان کو اپنے رب کی عبادت کرنے کا آخری موقع دیا جائے۔حکام کی اجازت ملنے پر انہوں نے نماز پڑھی اور اس کے بعد کہا کہ اب میں تیار ہوں، جو چاہو کر و۔آپ کو کمر تک زمین میں گاڑ دیا گیا اور پہلا پتھر کابل کے سب سے بد بخت عالم نے پھینکا۔اس کے بعد چاروں طرف سے پتھروں کی بارش ہو گئی یہاں تک کہ آپ پتھروں کے ڈھیر کے نیچے دب گئے اور خدا تعالیٰ کے رستے میں شہید ہو گئے۔انالله واناالیه راجعون۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے آپ کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے جماعت کو جو نصیحت کی یہ آپ کا وہ پیغام ہے جب قادیان میں ان کی شہادت پر ایک اجلاس کیا گیا تو اس میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا یہ پیغام بھی تھا۔غم کے اس وقت میں ہمیں اپنے فرائض کو نہیں بھلانا چاہئے جو ہمارے اس مبارک بھائی کی طرف سے ہم پر عاید ہوتا ہے جس نے اپنی جان خدا کی راہ میں قربان کر دی ہے۔اس نے اس کام کو شروع کیا ہے جسے ہمیں پورا کرنا ہے۔آؤ ہم اس لمحہ سے یہ مصمم ارادہ کر لیں کہ ہم اس وقت تک آرام نہیں کریں گے جب تک ہم ان شہیدوں کی زمین کو فتح نہیں کر لیں گے۔صاحبزادہ عبداللطیف صاحب، نعمت اللہ خان صاحب اور عبدالرحمن صاحب کی روحیں آسمان سے ہمیں ہمارے فرائض یاد دلا رہی ہیں اور میں یقین کرتا ہوں کہ احمد یہ جماعت ان کو نہیں بھولے گی۔(ملخص از تاریخ احمدیت جلد پنجم صفحه ۴۴۷ تا ۴۵۹)