شہدائے احمدیت — Page 33
خطبات طاہر بابت شہداء 33 33 خطبه جمعه ۳۰ را پریل ۱۹۹۹ء یہ امر واقعہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ ان واقعات کو کبھی نہیں بھولی اور آج بھی شہادت کے لئے اسی طرح احمدی دل مچل رہے ہیں جس طرح پہلے مچلا کرتے تھے۔مولوی عبد الحلیم صاحب اور قاری نور علی صاحب کابل اب دوسرا واقعہ بھی کا بل کی سرزمین کا واقعہ ہے۔مولوی عبدالحلیم صاحب ساکن چراسہ اور قاری نور علی صاحب ساکن کا بل کو ۵ فروری ۱۹۲۵ء میں شہید کیا گیا۔۵ فروری ۱۹۲۵ء کو امیر امان اللہ خان والی افغانستان کے حکم سے آپ سنگسار کئے گئے۔اس موقع پر اخبار ریاست دہلی نے بھی اپنے ۲۱ فروری ۱۹۲۵ء کے شمارہ میں لکھا: افغان گورنمنٹ کا یہ وحشیانہ فعل موجودہ زمانہ میں اس قدر قابل نفرت ہے کہ جس کے خلاف مہذب ممالک جتنا بھی صدائے احتجاج بلند کریں کم ہے۔دنیا میں کسی شخص کا مذہبی عقائد کی صورت میں حکومت کی طرف سے ظلم کئے جانا اور بے رحمی کیسا تھ قتل کئے جانا باعث شہادت ہوا کرتا ہے اور بلا شبہ نعمت اللہ اور اس کے دو شجاع اور بہادر قادیان میں شہید کہلائے جانے کے مستحق ہیں جنہوں نے اپنے عقائد کے مقابلہ میں دنیاوی لالچ اور راحت و آرام کی پرواہ نہ کی اور اپنے فانی جسم کو پتھروں، اینٹوں اور دوسری بے جان چیزوں کے حوالے کر دیا۔ثبت است بر جریدہ عالم دوام ما۔“ عالم کے صفحہ پر ہماری ہمیشہ کی زندگی ایک ایسا نقش چھوڑ گئی ہے جو ہمیشہ باقی رہے گا۔” ہم جہاں افغان حکومت کے اس ظالمانہ فعل کے خلاف نفرت اور انتہائی حقارت کا اظہار کرتے ہیں وہاں ان شہداء کے خاندانوں اور قادیانی فرقہ کے تمام لوگوں کو مبارکباد دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنے عقائد پر مضبوط رہ کر دنیا میں ظاہر کر دیا کہ ہندوستانی اب بھی اپنے عقائد کے مقابلہ پر بڑی سے بڑی مصیبت کو لبیک کہنے کے لئے تیار ہیں۔“ تو آپ کی شہادت نے نہ صرف کا بل ہی کی سرزمین پر ایک ماضی کے بہترین اسوہ کو زندہ نہیں کیا بلکہ ہندوستان کی سرزمین بھی اس واقعہ پر فخر کرنے لگی۔