شہدائے احمدیت — Page 31
خطبات طاہر بابت شہداء 31 خطبه جمعه ۳۰ را پریل ۱۹۹۹ء کے ذریعہ سے یہ کارروائی ہوئی کیونکہ وہ ان کے ہاتھ ہی کا خط لکھا ہے اس میں کوئی بھی شک نہیں۔وہ اپنے خط میں جو فارسی میں ہے جس کا ترجمہ میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں لکھتے ہیں : یہ کم ترین بندہ داعی اسلام تمہیں روز سے ایسے قید خانہ میں ہے جس کا دروازہ اور روشن دان بھی بند رہتے ہیں اور صرف ایک حصہ دروازہ کھلتا ہے۔کسی سے بات کرنے کی ممانعت ہے۔جب میں وضو وغیرہ کے لئے جاتا ہوں تو ساتھ پہرہ رہتا ہے۔خادم کو قید میں آنے کے دن سے لے کر اس وقت تک چار کوٹھریوں میں تبدیل کیا جا چکا ہے لیکن جس قدر بھی زیادہ اندھیرا ہوتا ہے اسی قدر خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے روشنی اور اطمینان قلب دیا جاتا ہے۔“ یہ شہداء کے دل کی داستان ہے جو سو فیصد درست ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی طرح اندھیرے کمروں میں بھی اس کا نور اترتا ہے اور مظلوموں کے دل کو روشن کر دیتا ہے۔مولوی صاحب شہید نے مکرم فضل کریم صاحب کو لکھا۔ایک اور خط میں لکھتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اسیح کے حضور یہ خط بھیج دیں۔علاوہ ازیں بذریعہ تار یا خط میرے احمدی بھائیوں کو میرے حال سے اطلاع دیں تا وہ دعا کریں۔دعا کیا کریں؟ کہ خدا تعالیٰ مجھے دین متین کی خدمت میں کامیاب کرے۔میں ہر وقت قید خانہ میں خدا تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ الہی اس نالائق بندے کو دین کی خدمت میں کامیاب کر۔میں یہ نہیں چاہتا کہ مجھے قید خانہ سے رہائی بخشے اور قتل ہونے سے نجات دے بلکہ میں عرض کرتا ہوں کہ الہی اس بندہ نالائق کے وجود کا ذرہ ذرہ اسلام پر قربان ہو“ ( ترجمه از اصل خط فارسی) الغرض مولوی نعمت اللہ خان صاحب محکمہ شرعیہ ابتدائیہ میں پیش کئے گئے جس نے ۱۱ اگست ۱۹۲۴ء کو آپ کے ارتداد اور واجب القتل ہونے کا فتویٰ دیا۔۱۴؍ اگست کو آپ عدالت مرافعہ کابل کے سامنے پیش کئے گئے جس نے دوبارہ آپ کے بیانات لینے کے بعد فیصلہ کی توثیق کرتے ہوئے مزید حکم دیا کہ نعمت اللہ کو قتل کرنے کی بجائے بڑے ہجوم کے سامنے سنگسار کیا