شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 23 of 297

شہدائے احمدیت — Page 23

خطبات طاہر بابت شہداء 23 23 خطبه جمعه ۲۳ ر اپریل ۱۹۹۹ء وہ کمر تک زمین میں گاڑ دیئے گئے تھے امیر ان کے پاس گیا اور کہا کہ اگر تو قادیانی سے جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے انکار کرے تو اب بھی میں تجھے بچا لیتا ہوں۔اب تیرا آخری وقت ہے اور یہ آخری موقع ہے جو تجھے دیا جاتا ہے اور اپنی جان اور اپنے عیال پر رحم کر۔تب شہید مرحوم نے جواب دیا کہ نعوذ باللہ سچائی سے کیونکر انکار ہوسکتا ہے اور جان کی کیا حقیقت ہے اور عیال واطفال کیا چیز ہیں جن کے لئے ایمان کو چھوڑ دوں، مجھ سے ایسا ہر گز نہیں ہوگا اور میں حق کے لئے مروں گا۔تب قاضیوں اور فقیہوں نے شور مچایا کہ کافر ہے، کافر ہے، اس کو جلد سنگسار کرو۔اس وقت امیر اور اس کا بھائی نصر اللہ خان اور قاضی عبدالاحد کمیدان یہ لوگ سوار تھے اور باقی تمام لوگ پیادہ تھے۔جب ایسی نازک حالت میں شہید مرحوم نے بار بار کہہ دیا کہ میں ایمان کو جان پر مقدم رکھتا ہوں تب امیر نے اپنے قاضی کو حکم دیا کہ پہلا پتھر تم چلاؤ کہ تم نے کفر کا فتویٰ لگایا ہے۔قاضی نے کہا آپ بادشاہ وقت ہیں آپ چلاویں۔تب امیر نے جواب دیا کہ شریعت کے تم ہی بادشاہ ہو اور تمہارا ہی فتویٰ ہے اس میں میرا کوئی دخل نہیں۔تب قاضی نے گھوڑے سے اتر کر ایک پتھر چلایا۔جس پتھر سے شہید مرحوم کو زخم کاری لگا اور گردن جھک گئی پھر بعد اس کے بد قسمت امیر نے اپنے ہاتھ سے پتھر چلایا۔پھر کیا تھا اس کی پیروی سے ہزاروں پتھر اس شہید پر پڑنے لگے اور کوئی حاضرین میں سے ایسا نہ تھا جس نے اس شہید مرحوم کی طرف پتھر نہ پھینکا ہو، یہاں تک کہ کثرت پتھروں سے شہید مرحوم کے سر پر ایک کوٹھہ پتھروں کا جمع ہو گیا۔پھر امیر نے واپس ہونے کے وقت کہا کہ یہ شخص کہتا تھا کہ میں چھ روز تک زندہ ہو جاؤں گا اس پر چھ روز تک پہرہ رہنا چاہئے۔یہ اپنی شہادت کے بعد دوبارہ روحانی زندگی کی طرف اشارہ تھا مگر اس کو امیر نے ظاہر پر محمول کیا اور کہا یہ کہتا تھا کہ میں چھ روز تک زندہ ہو جاؤں گا“۔جب شہید کر دیا گیا تو پھر پہرے کی