شہدائے احمدیت — Page 24
خطبات طاہر بابت شہداء 24 24 خطبه جمعه ۲۳ را پریل ۱۹۹۹ء ضرورت کیا تھی۔معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دل میں روحانیت کا اثر ضرور تھا۔دل میں جانتا تھا کہ اس شخص نے تو کبھی جھوٹی بات کی ہی نہیں تو اگر چہ بظاہر مردے کا زندہ ہونا ناممکن ہے مگر چونکہ شہید نے یہ کہا ہے اس لئے کوئی بعید نہیں کہ یہ شخص زندہ ہو جائے۔اتنا گہرا اثر اس صدیق کی باتوں کا دلوں پر پڑتا تھا کہ جھٹلانے والا ، سنگسار کرنے والا بھی دل کی گہرائی سے آپ کی سچائی کا قائل ضرور تھا۔بیان کیا گیا ہے کہ یہ ظلم یعنی سنگسار کرنا ۱۴ جولائی کو وقوع میں آیا۔اس بیان میں اکثر حصہ ان لوگوں کا ہے جو اس سلسلہ کے مخالف تھے، جنہوں نے یہ بھی اقرار کیا کہ ہم نے بھی پتھر مارے تھے۔یہ وہ گواہی ہے جو قابل اعتماد ہے اس پہلو سے کہ شامل ہونے والے سارے اس بات کی گواہی دیتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کی گواہیاں کبھی تحریر کی صورت میں کبھی دوسرے احمدی مخلصین کی زبانی پہنچتی رہیں۔اس بیان میں اکثر حصہ ان لوگوں کا ہے جو اس سلسلے کے مخالف تھے جنہوں نے یہ بھی اقرار کیا کہ ہم نے بھی پتھر مارے تھے اور بعض ایسے آدمی بھی اس بیان میں شامل ہیں کہ شہید مرحوم کے پوشیدہ شاگرد تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اس سے زیادہ دردناک ہے جیسا کہ بیان کیا گیا ہے۔اتنے خوفناک مظالم کئے گئے کہ بعض لوگوں نے ان کی تفصیل نہیں بتائی کیونکہ خطرہ تھا کہ رستے میں پکڑے نہ جائیں اور حکومت تک یہ بات نہ پہنچ جائے کہ ہم نے یہ رپورٹنگ کی ہے۔شاہزادہ عبداللطیف کے لئے جو شہادت مقدر تھی وہ ہو چکی۔اب ظالم کا پاداش باقی ہے۔یہ کابل کی سرزمین میں جو کچھ ہورہا ہے یہ وہی پاداش ہے جس کو آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔جتنا چاہیں زور لگالیں، جو مرضی کر لیں ، ایک دوسرے کے قتل وخون سے باز آ ہی نہیں سکتے۔مسلسل مرتے چلے جائیں گے اور ایک دوسرے کو قتل کرتے چلے جائیں گے اور ایک دوسرے پر ظلم توڑتے چلے جائیں گے کیونکہ یہ پاداش ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ کابل کی زمین کبھی نہیں بھولے گی۔