شہدائے احمدیت — Page 19
خطبات طاہر بابت شہداء 19 خطبه جمعه ۲۳ راپریل ۱۹۹۹ء واقعہ کے بعد جو شہادتیں اکٹھی ہوئی ہیں اور آنکھوں دیکھے گواہوں نے جو واقعات بیان کئے ہیں ان کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: چونکہ قضاء وقد ر سے مولوی صاحب کی شہادت مقدر تھی اور آسمان پر وہ برگزیدہ بزمرہ شہداء داخل ہو چکا تھا اس لئے امیر صاحب نے ان کو بلانے کے لئے حکمت عملی سے کام لیا اور ان کی طرف خط لکھا کہ آپ بلا خطر چلے آؤ اگر یہ دعوی سچا ہوگا تو میں بھی مرید ہو جاؤں گا“۔اس بے وقوف امیر کو یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ ہیں کون۔ان کو دھوکہ دینے کی ضرورت ہی کوئی نہیں ہے۔وہ تو کہا جائے کہ تم موت کے منہ میں آنکھیں ڈال کر دیکھو اور تکلیفوں کے ساتھ مارے جاؤ تو دوڑتے ہوئے اس وقت چلے آتے۔مگر ان بیوقوفوں کا جن کا ایمان نہیں تھا۔ان کا ایک حیلہ تھا اور پیغام یہ بھیجا کہ اگر یہ دعویٰ سچا ہو گا تو میں بھی مرید ہو جاؤں گا۔بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ خط امیر صاحب نے ڈاک میں بھیجا تھا یا دستی روانہ کیا تھا بہر حال اس خط کو دیکھ کر مولوی صاحب موصوف کابل کی طرف روانہ ہو گئے اور قضاء و قدر نے نازل ہونا شروع کر دیا۔راویوں نے یہ بیان کیا ہے کہ جب شہید مرحوم کا بل کے بازار سے گزرے تو گھوڑے پر سوار تھے اور ان کے پیچھے آٹھ سرکاری سوار تھے اور ان کی تشریف آوری سے پہلے عام طور پر کابل میں مشہور تھا کہ امیر صاحب نے اخوند زادہ صاحب کو دھوکہ دیکر بلایا ہے اب بعد اس کے دیکھنے والوں کا یہ بیان ہے۔یہاں اخوندزادہ سے مراد حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید ہیں۔کہ جب اخوند زادہ صاحب مرحوم بازار سے گزرے تو ہم اور دوسرے بہت سے بازاری لوگ ساتھ چلے گئے“۔اب یہ موقع کے گواہوں کا بیان ہے۔اور یہ بھی بیان کیا کہ آٹھ سرکاری سوارخوست سے ہی ان کے ہمراہ کئے گئے تھے کیونکہ ان کے خوست میں پہنچنے سے پہلے حکم سرکاری ان کے گرفتار