شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 227 of 297

شہدائے احمدیت — Page 227

خطبات طاہر بابت شہداء 216 مکرم محمد صادق صاحب چٹھہ داد حافظ آباد خطبہ جمعہ ۶ ارجولائی ۱۹۹۹ء محمد صادق صاحب شہید ، چٹھہ داد ضلع حافظ آباد۔یوم شہادت ۸/ نومبر ۱۹۹۶ء۔آپ کے خاندان میں جو کٹر اہل حدیث تھا آپ کے والد صاحب سے بھی پہلے آپکے بڑے بھائی ہدایت اللہ صاحب کو احمدی ہونے کی توفیق ملی۔محمد صادق صاحب کو جو ابھی احمدی نہیں ہوئے تھے اس کا سخت رنج تھا مگر والد کے احترام میں خاموش رہے۔مگر جونہی والد کی وفات ہوئی۔آپ نے اور دوسرے بھائی عنایت اللہ نے اپنے احمدی بھائی ہدایت اللہ کی زندگی اجرین کر دی۔۱۹۷۴ء میں جماعت کے خلاف تحریک زوروں پر تھی اور لوگ کہہ رہے تھے کہ اب ایسی دیوارسی بن گئی ہے کہ آئندہ اس وجہ سے کوئی احمدی نہیں ہوگا جو اس دیوار کو پھلانگ سکے ، لیکن مخالفین نے یہ اعجاز دیکھا کہ خود محمد صادق صاحب کو مخالفت کی دیوار پھلانگ کر احمدی ہونے کی توفیق ملی اور ہر طرف احمدیت کا پیغام پہنچانے میں جنگی تلوار بن گئے۔آپ ہی کی تبلیغ سے محمد اشرف صاحب شہید آف جلہن گوجرانوالہ بھی احمدی ہوئے جن کی قبول احمدیت نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور محمد صادق صاحب کی مخالفت اور بھی تیز ہوگئی۔مگر محمد صادق صاحب نے تا زندگی تبلیغ جاری رکھی اور خدا کے فضل سے آپ کو پندرہ مزید کٹر اہل حدیث اشخاص کو احمدی مسلمان بنانے کی توفیق ملی۔اس دوران نومبر ۱۹۹۶ء کو جب کہ آپ جمعہ پر جارہے تھے راستہ میں ایک پل کے پاس دشمن تاک لگائے بیٹھا تھا۔جو نہی آپ پل کے پاس پہنچے اُنہوں نے گولیاں برسا کر آپ کو چھلنی کر دیا اور وہیں موقع پر ہی شہید ہو گئے۔انــالـلـه وانـا الـيـه راجعون۔پسماندگان میں بیوہ محترمہ آمنہ بی بی صاحبہ کے علاوہ ایک بیٹی اور تین بیٹے چھوڑے۔بڑے بیٹے مکرم عصمت اللہ صاحب آرمی میں ملازم ہیں اور شادی شدہ ہیں۔دوسرے بیٹے نعمت اللہ صاحب بھی شادی شدہ ہیں۔تیسرے بیٹے رضوان احمد صاحب مڈل پاس کرنے کے بعد فارغ ہیں۔بیٹی نصرت شہزادی صاحبہ ابھی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور غیر شادی شدہ ہیں۔مکرم چودھری عتیق احمد صاحب باجوہ وہاڑی شہادت چودھری عتیق احمد صاحب باجوہ شہید، وہاڑی۔مکرم چودھری عتیق احمد صاحب باجوہ ۱۹۳۹ء میں فیصل آباد کے ایک گاؤں بہلول پور میں مکرم چودھری بشیر احمد صاحب باجوہ کے ہاں یدا ہوئے۔ابھی آپ آٹھ سال کے تھے کہ والد وفات پاگئے اور آپ کی والدہ محترمہ شریفہ بیگم صاحبہ