شہدائے احمدیت — Page 226
خطبات طاہر بابت شہداء 215 خطبہ جمعہ ۶ ارجولائی ۱۹۹۹ء آپ مرچکے ہیں لیکن وہ بچ گئے اور ان کا اب تک زندہ رہنا اور روزمرہ کے فرائض سرانجام دینا ایک چلتا پھرتا معجزہ ہے۔ایکسرے اور ڈاکٹری معائنہ کے بعد یہ قطعیت کے ساتھ ثابت ہو چکا ہے کہ آپ کے جسم کے بازوؤں اور ٹانگوں کی ساری ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ایک جگہ سے نہیں کئی کئی جگہ سے بازؤں کی اور ٹانگوں کی اور ڈاکٹروں کو سمجھ نہیں آتی کہ کیسے یہ شخص چلتا پھرتا ہے۔یعنی خدا کے فضل سے۔انہوں نے ہر قسم کا علاج کروانے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ تادم آخر اللہ کے فضل کے ساتھ اس کے اعجاز کے سہارے زندہ رہوں گا۔اسی جذبہ کے ساتھ اب روز مرہ کے کاروبار میں با قاعدہ حصہ لیتے رہے۔اس طرح ریاض شہید کی بھابھی کی یہ رویا بھی لفظاً لفظاً پوری ہوگئی کہ ایک بکری تو ذبح کر دی گئی اور ایک چھوڑ دی گئی۔یہ چھوڑی ہوئی بکری بھی عملاً شہیدوں میں ہی داخل ہے آپ کے پسماندگان میں آپ کی بیوہ کے علاوہ آپ کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں جو زیر تعلیم ہیں اور آج کل بحجیم میں مقیم ہیں۔مکرم مبارک احمد صاحب شر ما شکار پور مبارک احمد صاحب شر ما شہید، شکار پور۔آپ ۱۹۴۶ء میں مکرم عبدالرشید صاحب شرما کے ہاں پیدا ہوئے۔۱۹۵۰ء میں والدین کے ساتھ شکار پور سندھ میں رہائش اختیار کی۔ڈبل ایم۔اے کے بعد بی۔ایڈ کیا اور محکم تعلیم میں ملازم ہو گئے۔۱۹۷۴ء میں جب جماعت کی مخالفت زوروں پر تھی تو ایک رات چند دوستوں کی موجودگی میں سول ہسپتال شکار پور کے سامنے آپ پر ڈنڈوں اور کلہاڑیوں سے بڑا سخت حملہ کیا گی۔حتی کہ حملہ آور آپ کو مردہ سمجھ کر بھاگ گئے۔آپ کے سر، ٹانگ اور باقی جسم پر گہرے زخم آئے۔فوری طور پر سول ہسپتال میں داخل کیا گیا مگر ڈاکٹروں نے احمدی ہونے کی وجہ سے توجہ نہ دی تو آپ کو سکھر کے ہسپتال لے جایا گیا اور پھر وقفہ وقفہ سے کئی دوسرے شہروں میں بھی علاج کروایا جاتا رہا مگر ٹانگ کے زخم اور دماغی چوٹوں کا شافی علاج نہ ہو سکا۔آخر آپ انہی تکالیف کے سبب ۳ رمئی ۱۹۹۵ء کو اس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔انالله وانا اليه راجعون۔پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں چھوڑیں۔بیٹا سہیل مبارک احمد شرما اس وقت جامعہ احمد یہ ربوہ میں درجہ ثالثہ کا طالب علم ہے۔