شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 14 of 297

شہدائے احمدیت — Page 14

خطبات طاہر بابت شہداء 14 خطبه جمعه ۲۳ راپریل ۱۹۹۹ء فتوی دے سکتی ہے اور کسی دور کی نسبت سے اللہ ہی کو حق ہے اور کسی کوحق نہیں ہے۔اور اس تعلق میں میرا ذ ہن حضرت صاحبزادہ سید عبد اللطیف صاحب شہید کی طرف گیا اور خیال آیا کہ اگر یہ بات اسی طرح رہی اور ہمارے اخباروں میں اور کیسٹس میں لوگ یہ سنتے چلے گئے تو قیامت تک یہ ایک ناجائز سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ہمارے شہداء کا دور تو اللہ بہتر جانتا ہے کب تک چلنا ہے اور سب میں ایک دوسرے سے بڑھنے کے شوق میں یہ ناجائز دوڑ شروع ہو جائے گی کہ کوئی کہے گا اس دور کا یہ سیدالشہداء ہے اُس دور کا وہ سید الشہداء ہے اور اصل شہید کی عظمت پر ایک رنگ میں پردہ پڑ جائے گا جو حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف شہید ہیں، ہمیشہ وہی رہیں گے کوئی نہیں جو ان کی پاسنگ کو بھی پہنچتا ہو۔پس اس پہلو سے میں نے آج کے خطبہ میں ایک تو یہ وضاحت کرنی ضروری سمجھی اور کچھ اور وضاحتیں بھی ، کچھ لفظی غلطیاں وغیرہ اور رہ گئی تھیں جو میں درست کرنا چاہتا ہوں۔ایک غلطی ایسی ہوئی ہے جو میرے علم میں ہے کہ غلط ہے اور میرے وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتا کہ غلام قادر شہید کی رگوں میں میرا یا میری ماں کا یا میر داؤ د احمد صاحب یا میر محمد الحق صاحب کا خون دوڑ رہا ہے۔مجھے علم ہے، اچھی طرح جانتے ہوئے میرے منہ سے بجائے یہ نکلنے کے کہ شہید کی اولاد میں یہ سب خون دوڑ رہا ہے، یہ لفظ نکل گیا کہ شہید کے خون میں دوڑ رہا ہے اور ایک غلطی سے دوسری غلطی پیدا ہونے لگ گئی۔پس جو خون آپ کی رگوں سے بہا ہے بلاشبہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اماں جان کا خون ہے۔اس میں میرا یا کسی اور کے خون کے شامل ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں ہے ہاں ان کی اولاد میں یہ خون اکٹھے ہو گئے ہیں اور اس کی کوئی مثال خاندان میں آپ کو کہیں دکھائی نہیں دے گی۔ان کے بچوں میں جو خون اکٹھے ہوئے ہیں وہ تو لگتا ہے مجمع البحرین ہے۔ہر طرف سے آ آ کر خون کی نالیاں مل گئی ہیں۔تو اس درستی کو بھی پیش نظر رکھیں اور ان کے متعلق جو میرا فقرہ منہ سے نکلا تھا وہ کسی پہلو سے بھی درست نہیں تھا۔وہ کہنا یہ چاہئے تھا کہ آپ کی اولاد میں یہ خون اکٹھے ہو گئے ، منہ سے نکل گیا کہ ان کے خون میں یہ سب خون اکٹھے ہو گئے۔دوسرا ایک اور غلطی جو لفظی ہے جو تحریر میں غلط لکھی گئی تھی اور اسی طرح میں نے اس کو پڑھ دیا یا تحریر میں ٹھیک لکھی گئی ہوگی یا میری نظر کا قصور ہوگا اللہ بہتر جانتا ہے کیا واقعہ ہوا۔ان کے ایک بچے کا نام جو جڑواں بچہ ہے محمد معظم لکھا گیا تھا حالانکہ محمد مصلح نام ہے۔ماں باپ نے محمد مصلح نام رکھا تھا اور