شہدائے احمدیت — Page 13
خطبات طاہر بابت شہداء 13 خطبه جمعه ۲۳ رابریل ۱۹۹۹ء حضرت سید عبد اللطیف شہید کا بل کی شہادت کابل ( خطبه جمعه فرموده ۲۳ را پریل ۱۹۹۹ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے فرمایا: وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِى سَبِيْلِ اللهِ اَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَا ولكِن لَّا تَشْعُرُونَ (البقرة: ۱۵۵) وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ اَمْوَاتُ جو بھی اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں ان کو کو مردے نہ کہو۔بل احیا ہے بلکہ وہ تو زندہ ہیں۔جبکہ حال یہ ہے کہ تم اس کا شعور نہیں رکھتے۔یہی وہ آیت ہے جو شہداء کے ضمن میں ہمیشہ پڑھی جاتی ہے اور اسی تعلق میں میں آج اس مضمون کو جاری رکھوں گا جو پچھلے خطبہ میں بیان کیا تھا۔ایک غلطی جو اُس خطبہ کے دوران مجھ سے ہوئی وہ نسبتی غلطی تھی یعنی میں نے غلام قادر شہید کو اپنے دور کا سید الشہداء کہہ دیا تھا اور اس پہلو سے اس کے بعد مجھے رات بھر یہ پریشانی رہی اور دوسرے دن صبح میں نے پرائیویٹ سیکریٹری صاحب کو ہدایت کی کہ اپنے اخباروں کو، رسالوں کو اچھی طرح ہدایت کر دیں کہ یہ لفظ کسی نسبت سے بھی نہ استعمال ہو اور ایسا ہی ہوگا لیکن میں وجہ بیان کر رہا ہوں کہ کیوں میں نے ایسا کیا۔پہلی وجہ تو یہ ہے کہ مجھے خیال آیا کہ اللہ کے سوا کون کسی کو سید الشہداء کہہ سکتا ہے، وہ ہر حال سے باخبر ہے۔وہی ایک ذات ہے جو کسی کے متعلق سید الشہداء ہونے کا