شہدائے احمدیت — Page 173
خطبات طاہر بابت شہداء 166 خطبہ جمعہ ۲۵/ جون ۱۹۹۹ء اور گردونواح کے چھ گاؤں تہال پر حملہ آور ہوئے احمدیوں کے گھر جلائے گئے ، اس سے پہلے سامان لوٹا گیا ، مال مویشی چھینے گئے اور عام لوٹ کھسوٹ کی گئی۔ان سنگین حالات کو دیکھ کر ایس۔پی چیمہ صاحب نے نہایت دلیری سے ان شر پسندوں کو روکا بلکہ اس ہنگامہ میں بلوائیوں میں سے دو مارے بھی گئے۔مخالفت وقتی طور پر تو کچھ سرد پڑ گئی مگر چنگاریاں اندر ہی اندر سلگتی رہیں۔۔رمضان المبارک کے مہینہ میں تقریباً چار بجے تنویر احمد اور بشیر احمد جو شہید مرحوم کے بھتیجے تھے، روتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے۔ان بچوں نے آکر بتایا کہ چند غیر احمدی لڑکے راستہ میں تھے انہوں نے ہمیں مرزائی مرزائی کہنا شروع کر دیا اور ساتھ ہی پتھراؤں بھی کیا اور ہم مشکل سے جان بچا کر نکلے ہیں۔مکرم بشارت احمد صاحب سے برداشت نہ ہوسکا۔اٹھے کہ میں ان کے گھر والوں کو کہتا ہوں کہ یہ کیا شرافت ہے کہ ہمارے بچوں کو بھی گلی میں سے نہیں گزرنے دیتے، اپنے بچوں کو سمجھاؤ۔سب نے روکا آپ نہ جائیں، حالات خراب ہیں مگر آپ نہ مانے اور کہا کہ میں ان کو محض کہنے جارہا ہوں کون سی لڑائی کرنی ہے، کچھ نہیں ہوتا اور اتنا دب کر کیوں رہیں ، جورات قبر میں آنی ہے وہ باہر نہیں آسکتی۔چنانچہ آپ ان بچوں کے گھر گئے اور ان کے والدین کو سمجھانے لگے کہ دیکھیں یہ طریق درست نہیں ہے۔ان بچوں کی والدہ بولی تو کافر ہے ہمارے گھر سے نکل جا۔تو نے ہمارا صحن ناپاک کر دیا ہے۔آپ باہر نکلے ہی تھے کہ منصوبہ کے مطابق وہ لوگ جو چھپ کر مسلح بیٹھے تھے پیچھے سے نکل آئے اور آتے ہی آپ پر اندھا دھند لاٹھیوں کے وار کرنے شروع کر دئے۔ایک لاٹھی آپ کے سر پر لگی جس سے سر کی ہڈی ٹوٹ گئی اور آپ بے ہوش ہو کر گر پڑے اور حملہ آور بھاگ گئے۔آپ کے اقرباء کو جب پتہ چلا تو فوراً موقع واردات پر پہنچے۔آپ میں ابھی زندگی کی رمق موجود تھی چنانچہ آپ کو ہسپتال پہنچایا گیا مگر آپ زخموں کی تاب نہ لا کر اپنے مولائے حقیقی سے جا لے انا لله وانا اليه راجعون۔ورثا : آپ اپنے پیچھے ایک بیٹی اور بیوہ چھوڑ گئے۔بیٹی کی اب شادی ہو چکی ہے۔مکافات عمل: جس خاندان نے مکرم بشارت احمد صاحب کو شہید کیا تھا ان کا ایک بیٹا ریل سے گر کر مر گیا اور اس کی لاش کے کئی ٹکڑے ہو گئے۔جس وقت اس کی نعش گاؤں لائی گئی تو اس میں سے سخت بدبو آتی تھی۔اس کی بقیہ نرینہ اولاد بھی منشیات کے دھندے میں ملوث ہوگئی اور سارا