شہدائے احمدیت — Page 172
خطبات طاہر بابت شہداء 165 خطبہ جمعہ ۲۵ / جون ۱۹۹۹ء زخمی تھے انہیں سرگودھا ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا۔ماسٹر صاحب بھی تین ہفتے سرگودھا ہسپتال میں رہے۔پھر آپ کو جنرل ہسپتال لاہور منتقل کیا گیا مگر ڈاکٹر ان کے سر سے گولی نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔کچھ عرصہ بعد انہیں فضل عمر ہسپتال ربوہ منتقل کیا گیا جہاں آپ ۲۹ رستمبر ۱۹۷۴ء کو وفات پاگئے۔انا لله وانا اليه راجعون۔آپ نے پسماندگان میں پانچ بیٹیاں اور چھ بیٹے چھوڑے جو پاکستان کے علاوہ کینیڈا، سویڈن وغیرہ میں آباد ہیں۔مکرم عبدالحمید صاحب کنری عبدالحمید صاحب۔کنری۔تاریخ شہادت ۳ /۱ اکتو بر ۱۹۷۴ء۔۳ /اکتوبر ۱۹۷۴ء کو جماعت اسلامی کی تحریک پر مکرم ڈاکٹر رشید احمد صاحب کے بارہ میں ایک سوچی سمجھی سکیم تیار کر کے یہ مشہور کر دیا گیا کہ انہوں نے قرآن کریم جلا دیا ہے۔۳/اکتوبر کو جماعت کے خلاف نکالا جانے والا جلوس جو طالب علموں ، شہر کے اوباشوں اور غنڈوں پر مشتمل تھا اور ان کی پشت پناہی جماعت اسلامی اور پولیس کر رہی تھی۔ڈاکٹر رشید صاحب کے کلینک پر حملہ آور ہوا اور اسے مکمل تباہ کیا ، پھر ان کے مویشیوں کے باڑے کو آگ لگا دی۔محترم عبدالحمید صاحب مویشیوں کو بچانے کے لئے اور انہیں کھولنے کے لئے آگے بڑھے تو ہجوم میں سے کسی نے ان پر گولی چلا دی اور وہ وہیں شہید ہو گئے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔شهید مرحوم غیر شادی شدہ تھے۔پسماندگان میں والدین اور بہن بھائی تھے۔آپ کے والد مکرم سردار احمد صاحب ۱۹۸۷ء میں وفات پاگئے۔مکرم بشارت احمد صاحب آف تهال بشارت احمد صاحب۔تہال ضلع گجرات : تاریخ شہادت ۷ اکتو بر ۱۹۷۴ء۔بشارت احمد صاحب ولد غلام حسین صاحب یکم نومبر ۱۹۴۸ء کو موضع تہال ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔مرحوم پیدائشی احمدی تھے۔مرحوم کے چار بھائی تھے اور ایک بہن تھی۔آپ اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔آپ نے تہال سے پرائمری پاس کی اور ساتھ ہی قرآن کریم ناظرہ بھی پڑھ لیا۔بعد ازاں ۱۹۶۶ء میں میٹرک کے بعد آپ فوج میں بھرتی ہوئے۔۱۹۷۴ء میں جماعت احمدیہ کے خلاف ملک گیر تحریک کے دوران نہال بھی لپیٹ میں آگیا