شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 171 of 297

شہدائے احمدیت — Page 171

خطبات طاہر بابت شہداء 164 خطبہ جمعہ ۲۵ / جون ۱۹۹۹ء میں نے ابھی سمجھائی ہے کہ جماعت کو کہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ موت کب ہوتی ہے۔ان کو تو معلوم ہوتا ہے یہ تصرف الہی کے تابع سمجھایا گیا تھا کہ آج اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو جاؤں ، چندہ تو ادا ہو جائے۔چنانچہ اگلے روز ہی مولیٰ کریم کا بلاوا آ گیا۔ورثا : آپ کی اہلیہ حمدی بیگم خدا کے فضل سے زندہ ہیں اور اپنے دو بیٹوں حماد اور عمار کے ساتھ آج کل امریکہ میں مقیم ہیں۔ان کے علاوہ آپ نے چند بیٹیاں بھی چھوڑ دیں۔بڑی بیٹی مریم ڈاکٹر عقیل بن عبد القادر صاحب شہید کے بیٹے مسلم کی بیوی ہیں اور ناروے میں مقیم ہیں۔دوسری بیٹی بسینی امریکہ میں سردار رفیق احمد صاحب انجینئر کی اہلیہ ہیں۔تیسری بیٹی بشری عباس ہیں جو مکرم نصیر احمد سلیمان صاحب کے ساتھ بیاہی ہوئی ہیں اور ٹورانٹو ( کینیڈا) میں مقیم ہیں۔چوتھی عامرہ عباس صاحبہ اپنے بھائی عمار کے ساتھ جڑواں پیدا ہوئیں۔عامرہ کی شادی امریکہ میں مقیم ڈاکٹر فیروز پڈر صاحب سے ہوئی ہے جو ناصر آباد مقبوضہ کشمیر کے باشندے ہیں۔ان کے جڑواں بھائی عمار کی شادی عنقریب ہونے والی ہے انشاء اللہ۔مکرم ماسٹر ضیاءالدین ارشد صاحب ربوہ ماسٹر ضیاء الدین ارشد صاحب: یوم شہادت : ۲۹ /ستمبر ۱۹۷۴ء۔آپ ۲۰/اکتوبر ۱۹۱۰ء کو مڈھ رانجھا میں پیدا ہوئے۔15 سال تک محلہ دار البرکات کے صدر رہے۔مئی ۷۴ء میں ہنگامے شروع ہوئے تو ربوہ کے بہت سے بے گناہ شہریوں کو پولیس نے دھوکہ سے پکڑ کر سرگودھا جیل میں ڈال دیا۔جہاں انہیں مختلف اذیتیں پہنچائی جاتی رہیں۔ان اسیران میں ماسٹر صاحب کا بیٹا اور نواسہ بھی شامل تھے۔ایک روز آپ ان سے ملاقات کے لئے ایک وفد کے ساتھ سرگودھا گئے۔جب واپس آنے کے لئے سرگودھا ریلوے سٹیشن پر پہنچے تو وہاں چند نقاب پوشوں نے احمدیوں پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجہ میں ۹۔افراد شدید زخمی ہو گئے۔ماسٹر صاحب بھی ان زخمیوں میں شامل تھے۔آپ کے سر پر گولی لگی۔فائرنگ کے بعد جب نقاب پوش فرار ہو گئے تو احمد یوں نے اپنے زخمی ساتھیوں کو اٹھا کر گاڑی میں ڈالنا شروع کیا لیکن پولیس نے کہا کہ جب تک رپورٹ درج نہیں ہو جاتی ، زخمیوں کو کہیں نہیں لے جایا جاسکتا۔چنانچہ زخمیوں کو گاڑی سے نیچے اتارا گیا اور رپورٹ درج کروائی گئی۔جو زیادہ