شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 170 of 297

شہدائے احمدیت — Page 170

خطبات طاہر بابت شہداء 163 خطبہ جمعہ ۲۵/ جون ۱۹۹۹ء چار دن بعد علم ہو۔جسم سے شدید بد بو آرہی تھی۔لاش کسی نے جہلم پہنچائی تو اس کے بیوی بچوں اور سسر نے لاش قبول نہ کی اور کہا کہ اس قسم کے سیاہ کار شخص کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں۔گھر سے ایک فرلانگ کے فاصلہ پر مولویوں نے جنازہ پڑھا کر لاش اس کے آبائی گاؤں سمندری ضلع فیصل آباد بھجوادی۔اس کے علاوہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر مولوی عبدالغفور کے جسم پر بھی ذیا بیطس کے پھوڑے نکلے اور جسم میں کیڑے پڑ گئے اور بعد ازاں اسی بیماری کے ساتھ مرا۔مجلس تحفظ ختم نبوت کا جنرل سیکرٹری ناصر فد۲۳۱ / مارچ ۱۹۷۴ء کو یوم مسیح موعود کے جلسہ کے موقع پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مسجد احمد یہ جہلم پر حملہ آور ہوا۔اُس نے حقارت سے ٹھوکر مار کر مسجد کے بیرونی دروازہ کو کھولا جس سے اسی وقت اس کے پاؤں کے ناخن میں تکلیف ہوئی جو کینسر میں تبدیل ہوگئی جس کی وجہ سے تین دفعہ اس کی ٹانگ کاٹنی پڑی۔آخر اسی بیماری کے عذاب سہتا ہوا مر گیا۔پروفیسر عباس بن عبد القادر صاحب حیدر آباد پروفیسر عباس بن عبد القادر صاحب : تاریخ شہادت ۲ /ستمبر ۱۹۷۴ء۔آپ بھاگلپور کے رہنے والے تھے۔1947ء میں تقسیم ملک کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی پھر حیدر آبادسندھ چلے گئے اور وہیں رہائش اختیار کر لی۔آپ کے والد ماجد پروفیسر سید عبدالقادر صاحب صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں سے تھے جو حضرت سیدہ سارہ بیگم صاحبہ حرم حضرت اصلح الموعود رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی تھے۔عباس شہید بوقت شہادت گورنمنٹ کالج حیدرآباد میں پروفیسر تھے۔اس سے پہلے آپ تعلیم الاسلام کا لج میں بھی پروفیسر رہے۔آپ کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔سب کو جماعت سے متعارف کروانا اپنا فرض سمجھتے تھے۔آپ کی شہادت کی ظاہری وجہ بھی کثرت سے تبلیغ کرنا ہی بنی۔ساری عمر بے داغ بسر کی اور اعلیٰ اخلاق کے حامل رہے۔واقعہ شہادت ۲ ستمبر ۱۹۷۴ء بروز ہفتہ رات دس بجے آپ کسی دوست کے گھر سے واپس آرہے تھے کہ ایک شخص نے آپ پر پستول سے فائر کر کے شہید کر ڈالا۔انا للہ وانا اليه راجعون۔اس سے قبل جمعہ کا دن تھا۔اس دن آپ نے اپنے چندے کی مکمل ادائیگی کی۔یہی بات