شہدائے احمدیت — Page 9
خطبات طاہر بابت شہداء 9 خطبہ جمعہ ۶ ار اپریل ۱۹۹۹ء سب کے سروں کی ہیں بیس لاکھ قیمت مقرر کر رکھی تھی۔اس قسم کے منتظم جرائم کے ماہرین سے ہم نے مشورہ کیا ہے ان کی قطعی رائے یہ ہے کہ ان کو شیعوں پر خطرناک حملہ کرنے کے الزام میں ملوث کیا جائے کیونکہ محرم کا زمانہ ہے اس لئے دنیا پر یہ ظاہر کرنا تھا اور سارے ملک میں یہ کہہ کے آگ لگانی تھی کہ بے چارے سپاہ صحابہ پر تو خواہ مخواہ الزام آتے ہیں اصلی بد معاشی جماعت احمد یہ کروارہی ہے اور محرم وغیرہ کے مواقع پر جو ملک گیر فسادات ہوتے ہیں ان میں یہ ذمہ دار ہیں اور اگر یہ پتہ چل جائے کہ جماعت احمد یہ ملوث ہے تو پھر وہ ملک گیر فسادات بہت زیادہ ہولناک صورت اختیار کر سکتے تھے۔بے شمار احمدی معصوموں کی جانیں ان کے رحم و کرم پر ہوتیں ، جو رحم و کرم کا نام تک نہیں جانتے۔چنانچہ ماہرین بڑی قطعیت کے ساتھ یہ کہتے ہیں اور ان کے پاس یہ کہنے کی وجوہات موجود ہیں۔ان کی کارسمیت ان کی لاش کو وہ کہتے ہیں کہ جلا دینا مقصود تھا۔جس میں دہشت گردی کے جدید ترین ہتھیار مثلاً راکٹ لانچرز، گرینیڈ اور گرینیڈ لانچر اور بہت سے کلاشنکوفیں بھر دی جانی تھیں۔یہ خیال کیوں ان کو آیا اس لئے کہ ایک شخص کے قتل کے لئے اتنا بھاری جدید اسلحہ جو دہشت گردی کے جدیدترین تیارلوگوں کو جو ٹرینڈ آدمی ہیں ان کو دیا جاتا ہے وہ ساتھ لے جانے کی ضرورت کیا تھی۔ایک کار سے ان سارے جدید ترین اسلحات کی بھر مار پکڑی گئی ہے اور ان ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ساری چیزیں ان کی کار میں بھر کر ان کو جلا دینا مقصود تھا لیکن اندر سے وہ چیزیں پکڑیں جاتیں اور یہ الزام لگتا کہ سارے پاکستان میں جو خطرناک اسلح تقسیم ہورہا ہے اور بدمعاشیاں کی جا رہی ہیں یہ جماعت احمدیہ کروارہی ہے۔اور یہ جو چیزیں پکڑی گئیں یہ پولیس نے تسلیم کیا ہے کہ وہ ایک طرف تو اس کو اتفاقا ڈکیتی کا واقعہ بیان کرتی ہے اور دوسری طرف تسلیم کرتی ہے کہ ساری چیزیں ان کے پاس تھیں۔عام ڈکیتی میں اتنے خطرناک ہتھیاروں کی ضرورت کیسے ہوسکتی ہے۔یہ ویسے ہی ناممکن ہے۔اب عزیزم غلام قادر شہید کا جو غیر معمولی کارنامہ ہے وہ یہ ہے کہ اس کو سمجھ آئی تھی یہ ایک بہت خطرناک سازش ہے جس کے بداثرات جماعت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔چنانچہ اس نے بالکل پروانہیں کی کہ اس کو کیا تکلیف دی جارہی ہے۔اس کے گلے گھونٹنے کی کوشش کی گئی اس کو ہر طرح سے اندر خنجر مار کے بھی مارنے کی کوشش کی گئی تاکہ وہ بیچ کے باہر نہ نکل سکے لیکن بڑی سخت جان کے ساتھ سارے مصائب برداشت کرتے ہوئے وہ ان کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا اور یہ پسند کیا