شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 8 of 297

شہدائے احمدیت — Page 8

خطبات طاہر بابت شہداء 8 خطبہ جمعہ ۶ ار اپریل ۱۹۹۹ء اور وہاں کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ ہمارے اس کام کو آسان کر دیتا ہے۔بہت سی کتابیں چھپ رہی ہیں، بہت سے ایسے کام ہیں وہ وہاں چلے جاتے ہیں۔وہاں سے ڈسک (Disc) بن کر ہمارے پاس آ جاتی ہے تو اس کا بھی سہرا غلام قادر مرحوم کے سر پر ہے۔نہایت محنتی ، خاموش طبع اور دلنواز شخصیت کے مالک تھے۔تین خوبیاں یہ ایسی نمایاں تھیں۔بے انتہاء محنتی ، خاموش طبع ، چپ چاپ اپنے کام میں لگے رہتے تھے اور شخصیت بڑی دلنواز تھی ، دل لبھانے والی تھی جس کو طبیعت کے بے تکلف انکسار نے چار چاند لگا دیئے تھے یعنی انکسار ایسا تھا جو بالکل بے تکلف مزاج کی رگ رگ میں داخل تھا۔شہید ۱۲/جنوری ۱۹۶۲ء کو پیدا ہوئے تھے گویا اس عظیم شہادت کے وقت ان کی عمر ۳۷ سال کے قریب تھی اور اب یہ عمر لا زوال ہو چکی ہے۔ان کے پسماندگان میں عزیزہ امتہ الناصر نصرت جو میری بہت ہی پیاری بھانجی ہیں ان کے بطن سے ایک نو سالہ بیٹی عزیز سطوت جہاں ہے، ایک سات سالہ بیٹا کرشن احمد ہے نیز اڑھائی سالہ جڑواں بچے عزیز ان محمد مفلح اور نور الدین شامل ہیں۔ایک خصوصیت جو اس شہادت کو اس دور کی سب دوسری شہادتوں سے ممتاز کرتی ہے جس کا میں ابھی ذکر کرنے والا ہوں وہ یہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے جماعت کو ایک بہت ہی ہولناک ملک گیر فتنہ کے احتمال سے بچالیا۔اس سے پہلے کوئی ایسی شہادت نہیں جس کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہو کہ اس شہادت کے نتیجے میں بکثرت معصوموں کے خون بہائے جانے کے احتمال سے خدا تعالیٰ نے بچالیا ہو۔اور یہ بہت ہی گہری اور بہت ہی کمینی اور ہولناک سازش تھی۔جس کے متعلق اب مزید تحقیق جاری ہے اور اگر چہ پولیس نے اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی تھی مگر ہمارے ماہرین لگے ہوئے ہیں اور پوری تفاصیل معلوم کر کے رہیں گے انشاء اللہ۔لیکن جواب تک معلوم ہو چکا ہے اس پر بنا کرتے ہوئے میں آپ کو یقین کے ساتھ بتا سکتا ہوں کہ کوائف کیا ہیں۔ان کا اغوالشکر جھنگوی کے چار اشتہاری بدمعاشوں نے جن کا سرغنہ لشکر جھنگوی کا ایک نہایت بد نام زمانہ مولوی تھا اور یہ چاروں مفرور مجرم پولیس کو انتہائی خطر ناک جرائم کے ارتکاب میں اس درجہ مطلوب تھے کہ ان میں سے ہر ایک کے سر کی قیمت حکومت نے ہمیں نہیں لاکھ مقرر کر رکھی تھی یعنی بد بخت ملاں جو اس کا سربراہ تھا اور باقی پیشہ ور بدمعاش جو ان کی ملازمت میں رہتے ہیں ان