شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 10 of 297

شہدائے احمدیت — Page 10

خطبات طاہر بابت شہداء 10 خطبہ جمعہ ۶ ار اپریل ۱۹۹۹ء کہ سڑک پر اس کا خون بہہ جائے تا کہ جماعت احمد یہ اس سازش کے بداثرات سے محفوظ رہے اور ان کے قبضہ میں آکر دہشت گردی کے منصوبے میں اس کو ملوث نہ کیا جا سکے۔یہ جد و جہد تھی قادر کی جو خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب رہی۔شدید جسمانی اذیت پہنچی ہے مگر بالکل پروا نہیں کی۔آخر دم تک ان سے لڑتا رہا اور اغواء کا منصوبہ نا کام کر دیا اور سڑک پر باہر نکل کر ان کی گولیوں کا نشانہ بننا قبول کر لیا۔اس شہادت کا یہ پہلو ایسا ہے جو میں سمجھتا ہوں کہ قیامت تک شہید کے خون کا ہر قطرہ آسمان احمدیت پرستاروں کی طرح جگمگاتا رہے گا۔مجھے اس بچے سے بہت محبت تھی۔میں اس کی خوبیوں پر گہری نظر رکھتا تھا۔میں جانتا تھا کہ کیا چیز ہے۔اس وجہ سے میں بہت ہی پیار کرتا تھا گویا یہ میری آنکھوں کا تارا تھا۔مجھے صرف ایک حسرت ہے کہ کاش کبھی لفظوں میں اس کو بتا دیا ہوتا کہ اسے قادر تم مجھے کتنے پیارے ہوں۔کبھی آج تک ناز اور غم کے جذبات نے مل کر میرے دل پر ایسی یلغار نہیں کی۔ناز بھی ہے اور غم بھی ہے ان دونوں جذبات نے مل کر کبھی میرے دل پر ایسی یلغار نہیں کی جیسے قادر شہید کی شہادت نے کی ہے۔إِنَّمَا أَشْكُوابَتِي وَحُزْنِي إِلَى اللهِ (یوسف:۸۷) خدا کے حضور آنسو بہانا منع نہیں ہے۔کوشش یہی ہونی چاہئے کہ دنیا کے سامنے یہ آنسو نہ ہیں صرف اللہ کے حضور ہیں مگر بے اختیاری میں نکل بھی جاتے ہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بیٹے حضرت ابراہیم کو قبر میں دفناتے ہوئے اگر چہ بے انتہاء صبر کا مظاہرہ کیا مگر آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ایک بدنصیب نے کہا یا رسول اللہ ! آپ کی آنکھ سے آنسو! کیا دیکھ رہا ہوں۔آپ نے فرمایا خدا نے مجھے شقی القلب نہیں بنایا۔اگر تم بد نصیب ہو تو میری پاس اس کا کوئی علاج نہیں۔میرا دل سخت نہیں ہے۔میرے دل کے خون کے قطرے میرے آنسو بن کر بہہ جاتے ہیں مگر یہ ایک بے اختیار کا معاملہ ہے، میرے صبر کے باوجود ایسا ہوتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر صبر کرنے والا اور کون ہوسکتا ہے۔پس میں آخر پر قادر شہید کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہتا ہوں کہ جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں سید الشہداء حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کو خدا تعالیٰ