شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 7 of 297

شہدائے احمدیت — Page 7

خطبات طاہر بابت شہداء 7 خطبہ جمعہ ۶ اراپریل ۱۹۹۹ء ب سے پہلے قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی براہ راست ذریت کی تیسری نسل سے ہے۔غلام قادر شہید حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے اور صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب اور قدسیہ بیگم کے چھوٹے صاحبزادے تھے۔قدسیہ بیگم نواب عبد اللہ خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت نواب امتہ الحفیظ بیگم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی صاحبزادی ہیں۔اس پہلو سے حضرت اقدس علیہ السلام کے بیٹے اور بیٹی دونوں کے خون ان کی رگوں میں اکٹھے ہو گئے۔صرف یہی نہیں بلکہ میرے ساتھ بھی ان کا ایک رشتہ بنتا ہے۔۔۔میرے ساتھ ان کا جو رشتہ ہے وہ یہ ہے کہ میری ہمشیرہ امتہ الباسط اور بہنوئی میر داؤ د احمد صاحب ابن حضرت میر محمد الحق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سب سے چھوٹی بیٹی عزیزہ امتہ الناصر نصرت ان کی بیگم تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے بزرگوں کے خون کا ایک شہید کی رگوں میں اکٹھا ہونا ایک غیر معمولی واقعہ ہے جو میری نزدیک خاص تقدیر الہی کے تابع ہوا ہے تا کہ سب کا حصہ پڑ جائے۔حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بھی حصہ پڑ گیا اس میں اور سب بزرگوں کے جتنے خون ہیں ان کا اجتماع ہوا ہے اور یہ شاید ہی اس خاندان کے کسی اور لڑکے کے متعلق کہا جاسکتا ہو۔جہاں تک شہید کے تعلیمی کوائف کا تعلق ہے وہ ان کی ذہنی اور علمی عظمت کو ہمیشہ خراج تحسین پیش کرتے رہیں گے لیکن اصل خراج تحسین تو ان کی وقف کی روح ہے جو انہیں پیش کرتی رہے گی اور ہمیشہ ان کو زندہ رکھے گی۔ان کی تعلیم پہلے ربوہ اور پھر ایبٹ آباد پبلک سکول میں ہوئی۔جہاں سے ایف ایس سی (۔F۔Sc) کے امتحان میں یہ تمام پشاور یونیورسٹی میں اول قرار پائے۔پھر انجینئر نگ یو نیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئر نگ میں بی ایس سی ( B۔SC) کی پھر امریکہ جارج میسن یو نیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ایم ایس (۔M۔S) کیا اور پاکستان پہنچ کر اپنے وقف کے عہد پر پورا اترتے ہوئے اپنی خدمات سلسلہ کے حضور پیش کر دیں۔ربوہ میں کمپیوٹر کے شعبے کا آغاز کرنے اور پھر اسے جدیدترین ترقی یافتہ خطوط پر ڈھالنے کی ان کو تو فیق ملی۔وہاں بہت ہی عظیم کام ہورہے ہیں کمپیوٹر میں پوری ٹیم تیار ہوگئی ہے اور ان کا نظام دنیا کے کسی ملک سے پیچھے نہیں ہے۔جدید ترین سہولتیں مہیا کی گئی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے بہت سے کام جو زیادہ کاموں کے اجتماع کی وجہ سے یہاں نہیں کئے جا سکتے وہ ہم وہاں ربوہ بھیجتے ہیں