شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 138 of 297

شہدائے احمدیت — Page 138

خطبات طاہر بابت شہداء 130 خطبہ جمعہ ا ا / جون ۹۹ ١٩٩٩ء بڑے مخلص کارکن ہیں چوہدری محمد شریف صاحب مرحوم کی دوسری اہلیہ کی اولاد ہیں جو فلسطینی تھیں اور ربوہ میں رہتی ہیں۔اور ان کی ایک بہن امیر صاحب کینیڈا کی پہلی بیگم کی وفات کے بعد ان سے بیاہی گئی ہیں۔سید رضوان عبداللہ صاحب آف سوڈان سید رضوان عبداللہ صاحب ابن سید عمر ابو بکر آفندی خرطوم سوڈان۔آپ دسمبر ۱۹۵۰ء میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ربوہ آئے اور جامعہ حمد یہ حمد گر میں داخلہ لیا۔آپ بہت ذہین تھے۔آپ نے چند ماہ میں ہی اردو بولنی اور لکھنی پڑھنی سیکھ لی اور ہر امتحان اعزاز کے ساتھ پاس کیا۔آپ جامعہ احمدیہ کی بزم تعلیم البیان کے بانیوں میں سے تھے۔آپ ۲۶ اگست ۱۹۵۳ء کو جامعہ احمدیہ کے طلبہ کے ساتھ دریائے چناب پر نہانے گئے۔عصر کی نماز کے لئے وضو کر رہے تھے کہ پاؤں پھسل جانے سے دریا میں ڈوب گئے اور اس غریب الوطنی کے عالم میں شہید ہو گئے۔مرحوم اپنے والدین کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔آپ کو پہلے امانتاً عام قبرستان میں دفن کیا گیا۔اگر چہ آپ موصی نہیں تھے مگر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اجازت سے آپ بہشتی مقبرہ میں سپردخاک کئے گئے۔یعنی آپ کی امانت وہاں منتقل کر دی گئی۔آپ کی وفات پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مضمون ” رضوان عبد اللہ کی المناک وفات“ کے عنوان سے سپر د قلم فرمایا جس میں لکھا رضوان جو کئی ہزار میل کی مسافت طے کر کے علم دین کی تحصیل کی غرض سے ربوہ آیا ہوا تھا اور جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے اپنے والدین کا سب سے بڑا بچہ تھا۔ایک بہت ہی شریف اور ہونہار اور دیندار لڑکا تھا۔رضوان مرحوم سب سے پہلے لاہور میں مجھے ملا اور عربی زبان میں باتیں کرتا رہا اور پھر ہم نے اسے ربوہ بھجوانے کا انتظام کر دیا۔اس وقت سے میری طبیعت پر رضوان کی شرافت کا خاص اثر تھا۔کم گو، شریف مزاج، بے شر، مخلص، دینی جذبات سے معمور اور ہونہار۔یہ وہ اثر ہے جو ہر وہ شخص جو رضوان سے ملا اس کے متعلق قائم کرتا رہا ہے۔“ لمصل (روز نامه اصلح کراچی یکم نمبر ۱۹۵۳ صفحه ۳۰)