شہدائے احمدیت — Page 137
خطبات طاہر بابت شہداء 129 خطبہ جمعہ ا ا / جون ۹۹ ١٩٩٩ء مولوی ابوبکر ایوب صاحب اور مولوی محمد ایوب صاحب بھی اسی غرض سے قادیان آچکے تھے۔آغاز میں آپ اردو سے بالکل بے بہرہ تھے لیکن دن رات محنت کر کے بہت جلدار دو زبان سیکھ لی۔بعد میں مدرسہ احمدیہ میں داخلہ لے کر تیسری اور چوتھی جماعت کا امتحان اکٹھا دے کر کامیاب ہوئے۔وفات کے وقت آپ مدرسہ احمدیہ کی چھٹی جماعت میں پڑھ رہے تھے اور اپنی جماعت کے چوٹی کے طلباء میں تھے۔آپ احمدیت کے شیدائی تھے اور زندگی خدمت دین کے لئے وقف کی ہوئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات اور آپ کے خاندان سے بڑی محبت تھی۔آپ ٹائیفائیڈ کی وجہ سے ایک ماہ تک بستر مرگ پر رہے۔اس عرصہ میں تکلیف کو نہایت صبر واستقلال سے برداشت کیا۔آخر ۱۳ اگست ۱۹۴۱ء کو صبح سات بجے وفات پاگئے۔انـالـلـه وانا اليه راجعون۔آپ اگر چہ موصی تو نہ تھے مگر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے از راہ شفقت قواعد الوصیت کی شرط نمبر۴ کے تحت کہ ہر ایک صالح جس کی کوئی جائیداد نہیں اور کوئی مالی خدمت نہیں کر سکتا اگر یہ ثابت ہو کہ وہ دین کے لئے اپنی زندگی وقف رکھتا تھا اور صالح تھا تو وہ اس قبرستان میں دفن ہو سکتا ہے۔“ آپ کی بہشتی مقبرہ میں تدفین کی اجازت فرمائی۔بوقت وفات آپ کی عمر ۲۴ سال تھی۔محترمہ فضل بی بی صاحبہ اہلیہ مولا نا چوہدری محمد شریف صاحب فلسطین محتر مہ فضل بی بی صاحبہ اہلیہ مکرم چو ہدری محمد شریف صاحب مبلغ بلا دعر به فلسطین ومغربی افریقہ۔آپ ۱۹۳۸ء میں اپنے میاں چوہدری محمد شریف صاحب کے ساتھ قادیان سے فلسطین گئیں۔۱۹۴۳ء میں کیا بیر فلسطین میں ہی وفات پا گئیں۔آپ کیا بیر کے احمد یہ قبرستان میں دفن ہوئیں۔آپ موصیہ تھیں اس لئے بہشتی مقبرہ قادیان میں آپ کے نام کا کتبہ نصب ہے۔یہ خود فلسطینی نہیں تھیں ، ان کی فلسطینی بیوی دوسری ہیں جن کا ذکر بعد میں آئے گا۔آپ کے بطن سے ایک بیٹی اور دو بیٹے تھے۔چھوٹا بیٹا آپ کی وفات کے چند دن بعد وفات پا گیا تھا۔بڑے بیٹے مکرم عبد الرشید شریف، ڈپٹی سیکرٹری محکمہ صحت حکومت پنجاب تھے جنہیں اکتوبر ۱۹۹۸ء میں لاہور میں بعض شر پسندوں نے شہید کر دیا۔آپ کی بیٹی امتہ الحمید صاحبہ کی شادی چوہدری غلام رسول صاحب ٹھیکیدار کے بیٹے عبدالمجید ایم اے کے ساتھ ہوئی تھی۔ان کے پانچ بیٹے ہیں جو بفضلہ تعالیٰ سبھی مخلص ہیں۔عزیزم بشیر شریف صاحب جو انگلستان کی جماعت کے