شہدائے احمدیت — Page 123
خطبات طاہر بابت شہداء 114 مکرم احسان احمد باجوہ صاحب انگلستان خطبہ جمعہ ۴ / جون ۱۹۹۹ء مکرم احسان احمد باجوہ صاحب انگلستان - مکرم احسان احمد باجوہ صاحب اگر چہ مبلغ تو نہیں تھے مگر اپنی زندگی وقف بہر حال کر دی تھی اور بہت اخلاص سے زندگی وقف کی تھی۔مکرم احسان باجوہ صاحب، مکرم یوسف باجوہ صاحب حال جرمنی کے صاحبزادے تھے۔آپ ۱۹۸۶ء میں جماعتی خدمت پر انگلستان تشریف لائے اور جماعت کے لئے کارپینٹر کے طور پر اپنی خدمت کا عرصہ پورا ہونے سے پہلے ہی ہمیشہ کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی۔بڑے محنتی اور خاموش طبع کا رکن تھے۔اکتوبر ۱۹۹۵ء میں بیماری کے اچانک حملہ کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہوئے اور کچھ عرصہ قومہ (Comma) میں رہ کر بالآخر۱۲ راکتو بر ۱۹۹۵ء کو ہسپتال میں ہی وفات پائی۔انــا للـه وانــا الـيـه راجعون۔آپ کے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں جو یو کے میں مقیم ہیں۔ایک بیٹی جرمنی میں بیاہی ہوئی ہے۔سب ہی خدا تعالیٰ کے فضل سے دینی اور دنیاوی حسنات سے نوازے گئے ہیں۔مکرم الحاج السيد علمی الشافعی انگلستان مکرم الحاج السيد علمی الشافعی انگلستان۔تاریخ وفات ۱۲ فروری ۱۹۹۶ء۔محترم السید حلمی الشافعی صاحب قاہرہ مصر میں ۱۹۲۹ء میں پیدا ہوئے۔۱۹۶۵ء میں قبول احمدیت کی سعادت پائی۔۱۹۸۶ء میں آپ نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اور خدمت دین کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی۔۱۹۹۴ء میں مرکز کی ہدایت پر برطانیہ تشریف لے آئے اور یہاں سلسلہ کی کتب کے عربی ترجمہ کے کام میں ہمہ تن مصروف ہو گئے۔مسلم ٹیلی ویژن احمدیہ پر لقاء مع العرب“ پروگرام کے اجراء پر آپ کو اس خدمت کا موقع ملا کہ میرے انگریزی جوابات کا ساتھ ساتھ عربی ترجمہ پیش کرتے تھے اور تر جمانی میں آپ کو ایک ایسی خصوصیت حاصل تھی کہ میں نے اور کسی ترجمان کو اس صفت سے مزین نہیں دیکھا۔ایک تو رواں فصیح عربی میں ترجمہ ساتھ ساتھ کرنا اور پھر دل ڈال کر ایسے ترجمہ کرنا گویا کہ میں ہی خود عربی بول رہا ہوں۔یہاں تک ترجمہ کا کمال تھا کہ جب میری آنکھوں میں آنسود یکھتے تھے تو ان کی آنکھوں سے بھی آنسو رواں ہو جاتے تھے ، جب میں ہنستا تھا تو یہ بھی ہنتے تھے۔بہت عظیم الشان انسان تھے۔خدا انہیں غریق رحمت کرے۔ان کی یاد ہمیشہ دعا بن کے دل سے اٹھتی ہے اور