شہدائے احمدیت — Page 122
خطبات طاہر بابت شہداء 113 خطبہ جمعہ ۴ / جون ۱۹۹۹ء ڈگری حاصل کی۔آپ نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۲۳ سال تک خدمت دین کی توفیق پائی۔بیرونی ممالک میں آپ غانا، گیمبیا اور کینیڈا میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔آپ گیمبیا سے رخصت پر اپنے بچوں کو ملنے کینیڈا آئے ہوئے تھے۔۳۰ را پریل ۱۹۹۵ء کو کینیڈا ہی میں کار کے ایک حادثہ میں شہید ہو گئے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔بوقت شہادت آپ کی عمر ۴ ۵ سال تھی۔آپ نے اپنی بیوہ کے علاوہ اپنے پیچھے بطور یادگار تین بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑے ہیں۔آپ کی شہادت سے پہلے ہی بڑی بیٹی کی شادی ہو چکی تھی جواب امریکہ میں ہیں۔بڑے بیٹے محمد افضل صاحب پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔دوسرے بیٹے محمد حسن اور محمد انور زیر تعلیم ہیں۔اول الذکر الیکٹریکل انجینئر نگ میں اور محمد انور مکینیکل انجینئر نگ میں ہیں۔چھوٹی بیٹی امتہ الرؤف کی بھی شادی ہو چکی ہے اور سسکاٹون کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں۔سارے بچے اللہ تعالیٰ کے فضل سے دین و دنیا کی نعمتوں سے نوازے گئے ہیں۔مکرم مبشر احمد صاحب باجوہ جرمنی مکرم مبشر احمد صاحب باجوہ شہید آف جرمنی۔مبشر احمد صاحب باجوہ جماعت احمد یہ جرمنی کے سرگرم کارکن اور فدائی احمدی تھے۔خلافت احمدیہ سے ایسا عشق تھا کہ اس عشق میں ہمیشہ مگن رہتے تھے۔مختلف حیثیتوں سے جماعت جرمنی کی بہت عمدہ خدمات سرانجام دینے کی توفیق پائی۔زندگی کے آخری ایام میں ایم ٹی اے کی ذمہ داری ان کے سپر د تھی اور سارے جرمنی میں حلقہ وار کارکنوں اور کارکنات کی ٹیمیں بنا کر بہت عمدگی سے اس کام کو منظم کیا اور یہی منتظم کام ہے جواب بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ایم ٹی اے کے کاموں کے سلسلہ میں ہی اپنے بیٹے کے ہمراہ لندن آئے ہوئے تھے اور ٹیسٹس وغیرہ تیار کروا کر واپس جرمنی جارہے تھے کہ ۲۳ راگست ۱۹۹۵ء کو دوران سفر ایک حادثے کے نتیجے میں شہید ہو گئے۔انا لله وانا اليه راجعون۔آپ نے بیوہ کے علاوہ دو بیٹے محمد مظفر باجوہ اور محمد احسن باجوہ چھوڑے ہیں۔دونوں بھائی جماعتی کاموں میں فدائیت کی روح سے حصہ لیتے ہیں۔اول الذکر اپنے باپ کے نقش قدم پر ایم ٹی اے جرمنی کی بہت عظیم الشان خدمت کر رہے ہیں اور بطور ایڈیشنل سیکرٹری اس خدمت پر فائز ہیں اور ان کا ارادہ ڈینٹسٹ (Dentist) بننے کا ہے۔اللہ ان کو اچھا ڈاکٹر بننے کی توفیق بخشے۔احسن باجوہ بھی ایم ٹی اے کی ٹیکنیکل ٹیم کی روح رواں ہیں۔