شہدائے احمدیت — Page 124
خطبات طاہر بابت شہداء 115 خطبہ جمعہ ۴ / جون ۱۹۹۹ء اٹھتی رہے گی۔بچے مصر قاہرہ میں ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے سب بچے مخلص اور فدائی احمدی ہیں۔استاد اسمعیل تر اولے صاحب گیمبیا استاد اسمعیل تر اولے صاحب معلم گیمبیا۔تاریخ شہادت ۱۵ فروری ۱۹۹۶ء۔آپ نے ۱۹۸۱ء میں وقف کر کے تبلیغ کا کام شروع کیا اور بارہ سال تک گیمبیا میں خدمت دین کی توفیق پائی۔گنی بساؤ میں مشن کے اجراء پر ان کا تقر ر وہاں علاقائی مبلغ کے طور پر ہوا اور اڑھائی سال تک کام کیا۔گنی بساؤ میں ہی تبلیغی سفر پر روانگی کے دوران موٹر سائیکل کے حادثہ میں شہادت پائی۔انا للہ وانا اليه راجعون۔آپ کے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ ایک بڑا بیٹا عمر دس سال اور ایک بیٹی عمر پانچ سال ہیں۔محترم ابراہیم کنڈا صاحب بورکینا فاسو محترم ابراہیم کنڈا صاحب آف بورکینا فاسو۔۱۹۶۵ء میں بورکینا فاسو میں پیدا ہوئے۔ان کا گھرانہ بہت مذہبی تھا۔اور بورکینا فاسو میں مذہبی تعلیم مکمل کرنے کے بعد سعودی عرب چلے گئے۔۹ سال وہاں قیام کیا اور مدینہ المنورہ یونیورسٹی سے کامیاب ڈگری حاصل کر کے واپس بور کینا فاسو پہنچے۔۱۹۹۲ء میں جماعت میں شمولیت اختیار کی اور خدا کے فضل سے اخلاص اور ایمان میں بہت ترقی اور اپنی خدمات جماعت کو پیش کر دیں۔بڑے پر جوش داعی الی اللہ تھے۔لوکل مبلغ کے طور پر کام کرنے کی توفیق ملتی رہی۔۲۱ جون ۱۹۹۶ء کو ایک تبلیغی سفر سے واپس آتے ہوئے گاڑی الٹ جانے سے شہادت نصیب ہوئی۔انا لله وانا اليه راجعون - مرحوم انتہائی وفادار اور مخلص احمدی اور بڑے پر جوش داعی الی اللہ تھے۔پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ ایک بیٹا جس کی عمراڑھائی برس ہے وہ مرحوم کی شہادت کے بعد پیدا ہوا۔مولانا کرم الہی صاحب ظفر چین مولانا کرم الہی صاحب ظفر مبلغ سپین و پرتگال تاریخ وفات ۱۲ را گست ۱۹۹۶ء۔آپ ۳۰ دسمبر ۱۹۱۹ء کو بنگہ یوسی ضلع ہوشیار پور میں مکرم چوہدری اللہ بخش صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں پیدا ہوئے۔آپ کے والد نے ۱۹۰۷ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی تھی۔دسویں جماعت میں کامیابی کے بعد آپ نے واقف ہونے کی سعادت پائی۔مبلغین کلاس میں