شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 117 of 297

شہدائے احمدیت — Page 117

خطبات طاہر بابت شہداء 108 خطبہ جمعہ ۴ / جون ۱۹۹۹ء نائیجیریا ہیں نے انہیں ہسپتال پہنچایا۔بظاہر حالت تسلی بخش تھی اور ڈاکٹرز نے بھی اس حالت پر اطمینان کا اظہار کیا تھا لیکن جب محترم میشا نو صاحب انہیں ہسپتال پہنچا کر اپنے گھر پہنچے تو ایک گھنٹے کے بعد ہی حالت اچانک بگڑ گئی اور وفات پا گئے۔آپ کا جنازہ کا نولا یا گیا اور وہاں تدفین ہوئی۔آپ کی یو کا نو میں مقیم ہیں اولاد کو ئی نہیں تھی۔مکرم قریتی محمد اسلم صاحب مبلغ ٹرینیڈاڈ مکرم قریشی محمد اسلم صاحب مبلغ ٹرینیڈاڈ مکرم قریشی محمد اسلم صاحب ۱۸ نومبر ۱۹۳۹ء بروز جمعہ قادیان میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد قریشی محمد احسن صاحب مرحوم تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں استاد تھے اور دادا مکرم حافظ محمد حسین صاحب حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے رفقاء میں سے تھے۔قریشی صاحب نے ابتدائی تعلیم قادیان میں حاصل کی۔۱۹۵۶ء میں آپ نے اپنی زندگی وقف کر دی اور ۱۹۵۷ء میں میٹرک پاس کرنے کے بعد جامعتہ المبشرین میں داخلہ لیا۔جامعہ سے فارغ ہونے پر ۲۷ مئی ۱۹۶۳ء سے با قاعدہ طور پر خدمت سلسلہ کا آغاز کیا۔مئی ۱۹۶۹ء میں محترم قریشی صاحب ماریشس تشریف لے گئے جہاں ۱۹۷۳ء تک اعلائے کلمۃ اللہ کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔مئی ۱۹۷۵ء میں آپ گیانا گئے جہاں جولائی ۱۹۸۳ء تک خدمات سلسلہ بجالاتے رہے۔اس کے بعد آپ کی تقرری ٹرینیڈاڈ میں بطور مربی سلسلہ ہوئی جہاں آپ اپنی شہادت کے نیک انجام تک پہنچے۔ان کی شہادت کا واقعہ ایک پہلو سے ایک ایسا رنگ بھی رکھتا ہے جیسے عمداً ان کو محض احمدیت کی وجہ سے قتل کیا گیا ہے۔لیکن جو حالات ہیں وہ مشکوک ہیں اس لئے ان کو شہادت کی حیثیت تو ہر لحاظ سے حاصل ہے ہی مگر معین طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ خالصہ احمدیت کی بنا پر ان کو شہید کیا گیا تھا۔غالباً کرائے کے قتل کرنے والے کو کسی دشمن نے پیسے دے کر ان کی شہادت پر آمادہ کیا ہے۔محترم قریشی صاحب ا ر ا گست ۱۹۸۵ ء کی شام اپنے بیٹے محمد نصیر قریشی کے ساتھ کار میں بیٹھ کر جارہے تھے رستہ میں تین نامعلوم افراد نے آپ کو اپنی کا روکنے کا اشارہ کیا اور قریشی صاحب کو کار سے باہر بلایا۔آپ کار سے باہر آئے تو ایک شخص نے فوراً پستول آپ کی کنپٹی پر رکھ کر فائر کر دیا جس کے نتیجہ میں آپ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔انا لله و انا الیه راجعون۔شہادت کے وقت آپ کی عمر ۴۶ سال