شہدائے احمدیت — Page 116
خطبات طاہر بابت شہداء 107 خطبہ جمعہ ۴ / جون ۱۹۹۹ء فاؤنڈیشن کا علمی تصانیف پر دیا جانے والا انعام بھی حاصل کیا۔مرحوم بڑے حلیم الطبع اور سادہ تھے۔فرض شناسی، نیکی، دیانت اور محنت آپ کی نمایاں صفات تھیں۔وفات کے وقت آپ کوٹلی آزاد کشمیر میں بطور مربی متعین تھے۔اگست ۱۹۸۲ء کے تیسرے ہفتہ میں ملیر یا بخار سے بیمار ہوئے۔بخار میں کمی آئی تو ۲۶ را گست کو دل کے شدید حملہ سے جانبر نہ ہو سکے۔انا لله وانا اليه راجعون - مرحوم موصى تھے اس لئے آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہوئی۔آپ کی اہلیہ آپ کی وفات کے دو سال بعد وفات پا گئیں۔آپ کی ایک ہی بیٹی مریم ہیں جور بوہ کے محلہ دار العلوم شرقی میں رہتی ہیں۔مولوی برکت اللہ محمود صاحب مربی سلسلہ محترم مولوی برکت اللہ محمود صاحب مربی سلسلہ۔۷ اکتوبر ۱۹۸۳ء کی صبح دس بجے موٹر سائیکل چلاتے ہوئے حادثہ میں شدید زخمی ہو گئے۔اس کے بعد مسلسل بے ہوش رہے اور اسی بیہوشی میں ان کی وفات ہوئی۔بوقت وفات ان کی عمر ۵۲ سال تھی۔مجھے بھی ان کا کلاس فیلو ہونے کا شرف حاصل رہا۔بہت نیک دل، خوش مزاج اور سلسلہ سے بہت محبت رکھنے والے وجود تھے۔مرحوم کا جنازہ ۱۴ اکتوبر کی صبح ربوہ پہنچا اور بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔مرحوم عرصہ ڈیڑھ سال سے لاہور میں متعین تھے اور اس سے قبل لمبا عرصہ ملتان میں خدمات بجالاتے رہے۔مرحوم نے اپنی یادگار اپنی بیوی کے علاوہ تین بیٹیاں اور دو بیٹے چھوڑے ہیں۔بیٹیاں سب اللہ تعالیٰ کے فضل سے شادی شدہ ہیں اور خوش ہیں۔الحاج محمد ابراہیم بی چی صاحب مکرم الحاج محمد ابراہیم بی چی (Bichi) صاحب۔سن وفات ۱۹۸۴ء۔مکرم الحاج محمد ابراہیم صاحب بیچی کانو نائیجیریا کے رہنے والے تھے۔ہا ؤ سا قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے اور لوکل مبلغ کے طور پر کام کر رہے تھے۔آپ ایک صاحب علم شخص تھے۔دعوت الی اللہ کا بے حد شوق تھا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عربی کتب کا گہری نظر سے مطالعہ کیا تھا۔مخالفین نے ان کو پیشکش کی کہ ان کے ساتھ شامل ہو جائیں تو اعلیٰ عہدہ ، کار اور تمام سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔آپ نے اس پیشکش کو حقارت سے ٹھکرا دیا۔۱۹۸۴ء میں کانو سے باؤچی (Bauchi) تبلیغی دورے پر جارہے تھے ٹیکسی کے حادثہ میں شدید زخمی ہو گئے۔محترم محمد میشا نو صاحب جو موجودہ امیر جماعت