شہدائے احمدیت — Page 115
خطبات طاہر بابت شہداء 106 خطبہ جمعہ ۴ / جون ۱۹۹۹ء تھے کہ بہت کم ڈاکٹروں کو جو ربوہ میں متعین رہے ہیں اتنی ہر دلعزیزی حاصل ہو گی جتنی ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب کو تھی۔۱۹۶۲ء میں کانو نائیجیر یا بطور مشنری ڈاکٹر تقرر ہوا۔مسجد میں ہی کلینک شروع کیا اور اس کی آمد سے زمین خریدی اور ایک بہت بڑا ہسپتال بنایا۔آج کل وہاں جو ہسپتال ہے انہی کا بنایا ہوا ہے۔احمد یہ سکول کا نو کی زمین بھی ڈاکٹر صاحب نے ہی خریدی اور ۱۹۸۱ء میں دل کے حملہ سے نائیجریا میں ہی وفات ہوئی۔انا للہ وانا اليه راجعون۔آپ کا جنازہ ربوہ لے جایا گیا۔آپ کے پسماندگان میں دو بیٹے ڈاکٹر انوار الدین صاحب ( حال THI ربوہ ) اور ڈاکٹر جمال الدین صاحب ضیاء امریکہ میں مقیم ہیں۔ایک بیٹی بھی امریکہ میں ہیں اور دوسری بیٹی کینیڈا میں ہیں۔مکرم قریشی محمد اسد اللہ صاحب کا شمیری مکرم قریشی محمد اسد اللہ صاحب کا شمیری۔تاریخ وفات ۲۶ /اگست ۱۹۸۲ء۔مرحوم ۱۹۲۶ء میں وادی کشمیر کی شمال مغربی تحصیل ہندواڑہ میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم کے علاوہ اپنے طور پر دینی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ان کو پاکستان میں خدمت کی توفیق ملی ہے۔پاکستان ہی میں وفات ہوئی ہے لیکن کشمیر کا وہ حصہ جس میں یہ پیدا ہوئے تھے ان کا وطن تھا نہ کہ پاکستان۔پاکستان ان کا نانی وطن بنا ہے اس لئے ان کی بعض دوسری خوبیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کو بھی شہداء کی فہرست میں شامل سمجھا گیا ہے۔ابتدائی تعلیم کے علاوہ اپنے طور پر دینی تعلیم حاصل کرتے رہے۔۱۹۴۸ء میں پاکستان آگئے۔۱۹۵۰ء کے لگ بھگ جب آپ حکومت پاکستان کی طرف سے واہ کے کشمیری مہاجرین کے کیمپ میں دینی معلم تھے تو جماعت احمدیہ سے متعارف ہوئے اور تحقیق حق کی غرض سے سلسلہ احمدیہ کے لٹریچر کا مطالعہ کرنے لگے۔مسلسل آٹھ نو سال تک بڑے غور سے مطالعہ کرنے کے بعد جب آپ کو پوری طرح شرح صدر نصیب ہو گیا تو ۱۹۵۹ء میں بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے اور پھر اپنی زندگی وقف کر دی۔آپ کو بطور مربی گلگت، ایبٹ آباد، کیمبل پور (اٹک)، مظفر آباد اور کوٹلی میں بڑی خوش اسلوبی اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے منصبی فرائض نبھانے کی توفیق ملی۔آپ مربی سلسلہ کے فرائض کے ساتھ ساتھ علمی تحقیق میں بھی ہمیشہ مصروف رہے۔چنانچہ آپ نے کئی اعلیٰ مرتبہ کی تحقیقی کتب اور پمفلٹ اپنی یاد گار چھوڑے ہیں۔آپ نے تین مرتبہ فضل عمر