شہدائے احمدیت — Page 114
خطبات طاہر بابت شہداء 105 خطبہ جمعہ ۴ / جون ۱۹۹۹ء اور مکرم جوا در شید احمد خان صاحب نے موقع پر ہی دم تو ڑ دیا اور ان کے ایک ساتھی بہت زخمی ہوئے۔شہید ہونے والے خدام میں سے قائد ضلع مکرم ظاہر احمد صاحب روہڑی کے رہنے والے تھے اور ملازمت کے سلسلہ میں لاہور منتقل ہو چکے تھے۔دوسال سے قائد ضلع لاہور تھے۔آپ نے اپنے سوگوار والدین کے علاوہ ایک بیوہ، تین لڑکیاں اور ایک لڑکا یادگار چھوڑے۔بیٹیوں میں سے ایک کی شادی ہوچکی ہے۔دولڑ کیاں کراچی یونیورسٹی میں B۔Sc کی طالبات ہیں۔بیٹا الیکٹرونکس انجینئر نگ کر کے فلپس کمپنی میں ملازم ہے اور کراچی میں مقیم ہے۔مکرم جواد رشید احمد خان صاحب ابن ملک بشیر احمد صاحب بوقت شہادت نائب قائد ضلع لاہور تھے۔آپ کی عمر ۲۷ برس تھی۔آپ کے بڑے بھائی مکرم زرتشت منیر احمد صاحب (حال ناروے) کراچی کے قائد ضلع تھے۔حلقہ محمد نگر لاہور کے مکرم خواجہ اعجاز احمد صاحب ابن مکرم خواجہ محمد اکرم صاحب حادثہ کے شکار ہونے والے خدام میں سب سے چھوٹی عمر کے تھے۔کوئی ۲۳ ۲۴ سال عمر ہوگی۔شہادت سے ایک سال پہلے آپ نے ایم ایس سی فزکس کا امتحان پنجاب یونیورسٹی سے دوئم پوزیشن میں پاس کیا تھا اور مجلس نصرت جہاں کے لئے اپنی خدمات پیش کر رکھی تھیں۔آپ کے چھوٹے بھائی خواجہ ایاز احمد صاحب بھی واقف زندگی ہیں اور جامعہ احمدیہ میں بطور استاد اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ موصی تھے چنانچہ آپ کو بہشتی مقبرہ میں تدفین کی سعادت نصیب ہوئی جبکہ دوسرے شہداء کو قبرستان نمبر میں دفن کیا گیا۔سوا چار بجے سہ پہر حضرت خلیفتہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے بہشتی مقبرہ کے میدان میں نماز جنازہ پڑھائی جس کے بعد پہلے مکرم خواجہ اعجاز احمد صاحب کی قبر کی تیاری میں حضور نے شرکت فرمائی اور قبر تیار ہونے پر دعا کرائی۔پھر قبرستان نمبرا تشریف لے گئے جہاں آپ باقی دونوں شہداء کی تدفین تک ٹھہرے رہے اور آخری دعا کروائی۔محترم ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب اب محترم ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب کا نو نائیجیریا کی وفات کا ذکر کرتا ہوں۔تاریخ وفات جولائی ۱۹۸۱ء۔ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب حضرت مولوی سعد الدین صاحب آف کھاریاں کے بیٹے تھے۔ربوہ میں بھی آپ کو خدمت کی بہت توفیق ملی اور اتنے ہمدرد تھے اور غریبوں کا علاج مفت کرتے