شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 257 of 297

شہدائے احمدیت — Page 257

ضمیمہ 241 شہداء بعد از خطبات شہداء ہونے کی خواہش تھی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی خواہش پوری کر دی۔آپ نے شہادت کے دن پہلے مسجد میں نماز تہجد ادا کی اور پھر فجر کا انتظار کیا، درس سنا قبلہ رخ بیٹھے تھے کہ آپ پر گولیاں لگیں اور شہادت کا رتبہ پایا۔پسماندگان میں اہلیہ زہرہ بیگم صاحب کے علاوہ چھ بیٹے اور چار بیٹیاں یادگار چھوڑیں۔بیٹوں میں خالد محمود صاحب، آصف محمود صاحب، طاہر محمود صاحب، عدنان محمود صاحب اور عمران محمود صاحب ہیں۔بیٹیوں میں کوثر صاحبہ اہلیہ جاوید اقبال يحي صاحب، نسرین اختر صاحبہ اہلیہ ارشد احمد صاحب ، غزالہ صاحبہ اور راحت عطاء صاحبہ ہیں۔مکرم غلام محمد صاحب شہدائے گھٹیالیاں میں سے آپ سب سے معمر بزرگ تھے۔آپ نے ۶۸ سال کی عمر میں جام شہادت نوش کیا۔زمیندارہ پیشہ سے وابستہ تھے۔پنجوقتہ نمازوں کے عادی اور جماعتی پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور مالی قربانی میں بھی پیش پیش تھے۔آپ فائرنگ کے نتیجہ میں شدید زخمی ہوئے۔انہیں طبی امداد کے لئے پہلے نارووال لے جایا گیا وہاں سے لاہور لیکن لاہور ہسپتال میں پہنچنے سے پہلے ہی راہ مولیٰ میں قربان ہو گئے۔آپ نے اپنی یادگار چھ بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ان کے اسماء یہ ہیں۔محمد اقبال صاحب، ناصر احمد صاحب محمو داحمد صاحب، منظور احمد صاحب، محمد افضل صاحب، مقصود احمد صاحب، نذیراں بی بی صاحبہ مسرت بی بی صاحبہ اور نجمہ بی بی صاحبہ۔مکرم عباس علی صاحب مکرم عباس علی صاحب والد مکرم فیض احمد صاحب عمر ۳۵ سال وہ دلیر جوان تھے جنہوں نے سب سے پہلے حملہ آوروں کی گن پر ہاتھ ڈال دیا اور ایک حملہ آور سے گھتم گتھا ہوئے۔یہ افتخار احمد صاحب شہید کے دوست تھے اور ان کے ساتھ مل کر زمینداری اور محنت مزدوری کرتے تھے۔انتہائی شریف النفس اور نمازی تھے۔صحت مند اور محنتی جوان تھے۔انہوں نے پسماندگان میں ایک بیوہ کے علاوہ ایک بیٹا عزیزم وقاص عمر چھ سال اور بیٹی عاصمہ بعمر ۳ سال چھوڑے ہیں۔