شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 258 of 297

شہدائے احمدیت — Page 258

ضمیمہ 242 شہدائے تخت ہزارہ ضلع سرگودھا ( تاریخ شہادت ۱۰ نومبر ۲۰۰۰ء) شہداء بعد از خطبات شہداء مورخه ۱۰ نومبر ۲۰۰۰ء بروز جمعتہ المبارک جماعت احمد یہ تخت ہزارہ ضلع سرگودھا کے پانچ احمدی معاندین کے تشد داور فائرنگ سے مسجد احمد یہ میں شہید ہو گئے۔اس اشتعال انگیز اور پر تشدد واقعہ میں چند احمدی زخمی بھی ہوئے۔اس گاؤں میں مولوی اطہر شاہ نے گذشتہ ایک عرصہ سے جماعت کے خلاف سب وشتم اور اشتعال انگیزی کا بازارگرم کر رکھا تھا۔۱۰ نومبر کو عصر کے بعد اس نے اپنے غنڈوں کے ہمراہ گاؤں کی گلیوں میں احمدیوں کے گھروں کے باہر غلیظ گالیاں نکالنی شروع کیں۔احمدیوں نے صبر سے کام لیا۔عشاء کے وقت طے شدہ منصوبہ کے تحت چار مساجد سے اعلان ہوا اور دو اڑھائی صد افراد ڈنڈے اور کلہاڑیاں لیکر احمد یہ مسجد پہنچے۔دیوار گرادی، اندر گھس گئے اور چھت پر بھی چڑھ گئے۔پولیس کو واقعہ کی اطلاع کی دی گئی تھی اور اس وقت بھی چند سپاہی موجود تھے۔اس پر تشدد واقعہ میں چار احمدی موقع پر ہی شہید کر دئیے گئے اور انکی لاشوں کی بے حرمتی کی گئی اور لاشوں کو گھسیٹ کر چھت سے گلیوں میں پھینکا گیا۔ایک نوجوان ہسپتال پہنچ کر قربان ہو گیا۔یوں عشق حقیقی میں سرشار پانچ احمد یوں نے اپنے خون سے لافانی عشق کی داستان رقم کر دی۔شہید ہونے والوں میں مکرم ناصر احمد صاحب امیر جماعت تخت ہزارہ، مکرم نذیر احمد صاحب رائے پوری، مکرم عارف محمود صاحب ابن مکرم نذیر احمد صاحب رائے پوری ، مکرم مبارک احمد صاحب ابن جمال دین صاحب اور مکرم مدثر احمد صاحب ابن مکرم منظور احمد صاحب شامل تھے۔شدید زخمی ہونے والوں میں مکرم عبدالحمید صاحب عمر ۷۵ سال اور دو بھائی مکرم مختار احمد صاحب اور خالد احمد صاحب شامل تھے۔شہدائے تخت ہزارہ کی میتیں اگلے روزا ارنومبر ۲۰۰۰ء کو عصر کے وقت ربوہ پہنچیں۔مغرب و عشاء کے بعد مسجد مبارک میں محترم ملک خالد مسعود صاحب قائم مقام ناظر اعلیٰ و امیر مقامی نے نماز جنازہ پڑھائی اور تدفین کے بعد دعا کروائی۔ربوہ اور اطراف سے آئے ہوئے ہزاروں احمدیوں نے نماز جنازہ و تدفین میں شرکت کی۔شہدائے تخت ہزارہ کا مختصر تذکرہ پیش ہے: