شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 256 of 297

شہدائے احمدیت — Page 256

ضمیمہ 240 شہداء بعد از خطبات شہداء سانحہ میں شہید ہونے والے احمدیوں کے مختصر کوائف ذیل میں دیئے جار ہے ہیں۔(نوٹ:۔زخمیوں کے اسماء یہ ہیں : نصیر احمد صاحب عمر ۷۰ سال ، ماسٹر محمد اسلم صاحب عمر ۶۱ سال، ندیم احمد صاحب ولد مہر محمد اسلم صاحب عمر ۲۴ سال تسنیم احمد صاحب ولد ماسٹر محمد اسلم صاحب تیم اسلم واقف نو ولد ماسٹر محمد اسلم صاحب عمر ۱۳ سال، شہباز احمد ولد غلام محمد صاحب عمر ۳۶ سال، محمد بوٹا صاحب ولد محمد یار صاحب عمر ۳۵ سال) مکرم افتخار احمد صاحب شہید مکرم افتخار احمد صاحب ولد مکرم چوہدری محمد صادق صاحب مرحوم کی عمر ۳۵ سال تھی۔آپ زمیندارہ کے پیشہ سے وابستہ تھے۔اپنا ٹریکٹر ٹرالی اور تھریشر رکھا ہوا تھا۔ایک مخلص، فدائی احمدی اور خدام الاحمدیہ کی عاملہ کے رکن تھے۔ہر کسی کی خدمت کیلئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔نمازوں میں با قاعدہ تھے اور حضور کا خطبہ بھی بڑی باقاعدگی سے سنتے۔اپنوں اور غیروں میں ہر دل عزیز اور لوگوں کی مدد میں کمر بستہ رہتے تھے۔پس ماندگان میں والدہ کے علاوہ بیوہ اور دو بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑی۔بڑا بیٹا وقار احمد ششم جماعت چھوٹا بیٹا وقاص احمد واقف نو پہلی جماعت اور بیٹی طیبہ کی عمر تین سال تھی۔مکرم شہزاد احمد صاحب ولد محمد بشیر صاحب خوبصورت، صحت مند اور ذہین نوجوان مکرم شہزاد احمد صاحب کی عمر ۱۶ سال تھی۔بڑے اچھے نمبروں میں اسی سال میٹرک کا امتحان پاس کیا اور گورنمنٹ کالج آف سائنس میں فرسٹ ایئر میں داخلہ لیا تھا۔اس نو عمری میں ہی پنجوقتہ نماز کے شوقین تھے اور دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔ہاکی ، کرکٹ، کبڈی کے بھی شوقین تھے۔شہزاد احمد شہید کے ایک بڑے بھائی محمد افضل صاحب اور تین چھوڑے بھائی کامران ، بشارت احمد اور طارق محمود ہیں جبکہ دو ہمشیرگان شبانہ صاحبہ اہلیہ فرقان احمد اور فاخرہ صاحبہ ہیں۔شہزاد کے والد آرمی سے ریٹائر ڈ ہیں۔مکرم عطاء اللہ صاحب شہید مکرم عطاء اللہ صاحب کی عمر ۶۵ سال تھی۔آپ مرید کے کوہ نور آئل ملز سے ریٹائر ہوئے تھے اور آجکل زمیندارہ کرتے تھے۔پنجگانہ نماز کے عادی اور مخلص احمدی تھے۔دعوت الی اللہ کا بہت شوق تھا اور جماعتی پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔آپ کو راہ مولیٰ میں قربان