شہدائے احمدیت — Page 250
ضمیمہ 234 شہداء بعد از خطبات شہداء بمشکل گزارہ کرتے تھے۔جو جماعتیں اپنے شہداء کا خیال رکھتی ہیں، شہداء کی طرح وہ جماعتیں بھی ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔اس لئے ضروری ہے، بنگلہ دیش کو پھر میں دوبارہ ہدایت کر رہا ہوں کہ ہرگز کوئی کنجوسی نہیں کرنی ، پہلے سے بہتر حالت میں ہوں اور کمزور حالت میں نہ ہوں۔مکرم نورالدین صاحب مکرم نور الدین صاحب کی عمر ۳۰ سال تھی اور کھلنا جماعت کے جنرل سیکرٹری کے طور پر خدمت کر رہے تھے۔ہمیشہ جماعت کی پر خلوص خدمات کی توفیق پاتے رہے۔دو سال پہلے شادی ہوئی تھی۔آپ تین بھائیوں اور ایک بہن میں سب سے بڑے تھے۔ان کے دادا مکرم منشی سکیم الدین صاحب سندر بن جماعت کے بانیوں میں سے تھے۔ان کو میں ذاتی طور پر ملا بھی ہوں اور بہت ان کی عزت کرتا تھا۔مکرم اکبر حسین صاحب مکرم اکبر حسین صاحب کی عمر ۳۹ سال تھی اور انہوں نے ساڑھے تین سال پہلے اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ قبول احمدیت کی سعادت حاصل کی تھی۔پسماندگان میں بوڑھی والدہ کے علاوہ دو بیٹے بھی چھوڑے ہیں۔شہادت سے متعلق میرے خطبات سننے کے بعد آپ نے مجھے لکھا تھا۔اب یہ بات خاص طور پر میرے پیش نظر ہے اور میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ نئے احمدی تھے مگر خطبات شہادت کو سننے کے بعد مجھے لکھا کہ حضور دعا کریں مجھے بھی خدا کی راہ میں قربانی کا شرف حاصل ہو۔تو اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ پر خلوص تمنا پوری کر دی۔۔مکرم سبحان موڑل صاحب مکرم سبحان مورل صاحب کی عمر ۵۴ سال تھی اور یہ سندر بن کے رہنے والے تھے۔کسی کام سے کھلنا آئے ہوئے تھے۔پُر جوش داعی الی اللہ تھے۔پسماندگان میں چار بیٹیاں اور : پانچ بیٹے چھوڑے ہیں۔چھوٹا بیٹا عزیزم غلام رسول تحریک وقف نو میں شامل ہے۔مکرم محب اللہ صاحب مکرم محبت اللہ صاحب کی عمر ۳۴ سال تھی۔آپ جماعت سندر بن کے صد ر مکرم جی ایم مطیع الرحمان صاحب کے دوسرے بیٹے تھے۔تین سال قبل شادی ہوئی تھی۔پسماندگان میں بیوہ اور ایک