شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 249 of 297

شہدائے احمدیت — Page 249

ضمیمہ 233 شہداء مسجد کھلنا بنگلہ دیش ( تاریخ شہادت ۸/اکتوبر ۱۹۹۹ء) شہداء بعد از خطبات شہداء مورخه ۱/۸ کتوبر ۱۹۹۹ء بروز جمعہ احمدیہ مسجد کھلنا بنگلہ دیش میں ایک بم دھما کہ ہوا جس کے نتیجہ میں سات احمدی شہید ہو گئے۔سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۵/نومبر ۱۹۹۹ء بمقام مسجد فضل لندن میں ان شہدا کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ”اب میں اس خطبہ کے آخر پر بعض شہداء کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جن کی نماز جنازہ آج جمعہ کے بعد ادا ہوگی۔چند ہفتے قبل ۱/۸اکتوبر ۱۹۹۹ء کو بنگلہ دیش کے شہر کھلنا کے رہائشی علاقہ نرالہ میں واقع احمد یہ مسجد میں بم کا ایک خوفناک دھما کہ ہوا تھا۔اس وقت مربی سلسلہ مکرم امدادالرحمان صاحب خطبہ جمعہ دے رہے تھے۔اس دھما کہ کے نتیجہ میں دو خدام مکرم جہانگیر حسین صاحب اور مکرم نورالدین صاحب موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ چار افراد نے ہسپتال پہنچ کر دم تو ڑ دیا۔یہ دو اور چار چھ بنتے ہیں مگر مجھے یاد ہے انہوں نے مجھے رپورٹ پیش کی تو میرے منہ سے سات نکلا ہے کہ سات شہید ہوگئے۔تو بعد کی اطلاع کے مطابق ایک صاحب بعد میں بھی زخموں کی تاب نہ لاکر شہید ہو گئے تو سات کا عدد اس طرح پورا ہو گیا۔اب ان شہداء کے مختصر حالات میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔مکرم جہانگیر حسین صاحب ابن مکرم اکبر حسین صاحب مکرم جہانگیر حسین صاحب کی عمر پچیس سال تھی اور وہ بی کام کا امتحان دینے والے تھے۔بہت نیک اور فعال داعی الی اللہ تھے۔مکرم سید علی سردار صاحب مرحوم آف سندر بن کے نواسے تھے۔اس ضمن میں بہت سے لوگ لکھتے ہیں کہ ان کے پسماندگان کا خیال رکھا جائے۔وہ تو جس دن خبر آئی تھی اسی وقت ہم نے کہہ دیا تھا۔ایک لمحہ بھی انتظار نہیں کیا اور ہدایت دی ہوئی ہے کہ پسماندگان کو ان کے شہداء کی زندگی میں جو کچھ ملتا تھا اس سے کم کسی صورت میں نہیں ملنا چاہئے اور زیادہ ضرورت ہو تو زیادہ بھی ملنا چاہئے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض لوگ غرباء ہیں اور اپنی زندگی میں