شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 140 of 297

شہدائے احمدیت — Page 140

خطبات طاہر بابت شہداء 132 خطبہ جمعہ ا ا / جون ۹۹ ١٩٩٩ء خدمت دین کے دوران ہی ۲۶ نومبر ۱۹۸۶ء کو گیا نا میں وفات ہوئی۔اناللہ وانا اليه راجعون۔چونکہ خدمت دین کرتے ہوئے اپنے وطن سے دور فوت ہوئے اس لئے ان کو بھی شہداء میں شامل کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو گیارہ بچوں سے نوازا جن میں سے تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں زندہ موجود ہیں اور اخلاص کے ساتھ جماعت سے وابستہ ہیں۔ڈاکٹر قدسیہ خالد ہاشمی صاحبہ غانا ڈاکٹر قدسیہ خالد ہاشمی صاحبہ اہلیہ خالد ہاشمی صاحب۔آپ ۱۹۳۲ء میں پیدا ہوئیں۔ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ۱۹۶۶ء میں آپ کی شادی ڈاکٹر خالد ہاشمی صاحب کے ساتھ ہوئی۔شادی کے وقت آپ احمدی نہیں تھی۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث رحمہ اللہ کی اجازت سے شادی ہوئی تھی۔۱۹۷۲ء میں آپ نے احمدیت قبول کی تھی اور ۱۹۷۴ء میں نصرت جہاں سکیم کے تحت زندگی وقف کرنے کے بعد اپنے خاوند ڈاکٹر خالد ہاشمی صاحب کے ساتھ ٹیچی مان غانا میں بطور لیڈی ڈاکٹر تقرر ہوا۔انتہائی نامساعد حالات میں صبر و شکر اور محنت کے ساتھ آپ نے ہسپتال کو بہت ترقی دی۔واقعہ شہادت۔۶ فروری ۱۹۸۸ء کو جب میں غانا کے دورہ پر کرا پہنچا تو یہ وہاں استقبال کے لئے تشریف لائی ہوئی تھیں۔ایئر پورٹ سے واپس اپنے سینٹر ٹیچی مان جاتے ہوئے کار کے حادثہ میں وفات پاگئیں۔اناللہ وانا اليه راجعون۔۱۹۸۸ء کے جلسہ سالانہ غانا کے موقع پر میں نے چھپیں تمہیں ہزار احباب کی موجودگی میں ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔احمد یہ ہسپتال ٹیچی مان کے احاطہ میں انہیں دفن کیا گیا۔موصیہ بھی تھیں اس لئے بہشتی مقبرہ ربوہ میں ان کا یادگاری کتبہ نصب ہے۔مرحومہ کی کوئی اولا د نہیں تھی۔ان کے میاں خالد ہاشمی صاحب آج کل وینکوور کینیڈا میں ہیں۔احمد یہ ہسپتال نیچی مان کی نئی عمارت میں جو میٹرنٹی وارڈ ہے وہ انہی کے نام پر ” قدسیہ وارڈ کہلاتا ہے۔حافظ عبدالوہاب صاحب بلتستانی حافظ عبدالوہاب بلتستانی تاریخ وفات ۱۴ /اکتوبر ۱۹۸۸ء۔مکرم حافظ عبدالوہاب صاحب، مولوی غلام محمد صاحب بلتستانی کے بڑے بیٹے تھے۔مولوی غلام محمد صاحب بلتستان کے پہلے احمدی تھے جو سیا چین گلیشیئر کے نیچے دم تم کے دور دراز علاقہ کے رہنے والے تھے۔انہوں نے ۱۹۷۳ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے دست مبارک پر بیعت کی تو حضور نے اسی موقع پر آپ