شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 141 of 297

شہدائے احمدیت — Page 141

خطبات طاہر بابت شہداء 133 خطبہ جمعہ ا ا / جون ۹۹ ١٩٩٩ء سے کہا کہ اپنے بچوں کو ربوہ لائیں اور حصول تعلیم کے لئے انہیں یہاں کے تعلیمی اداروں میں داخل کرائیں۔چنانچہ انہوں نے عبدالوہاب کو مدرستہ الحفظ میں داخل کرایا۔تین سال میں قرآن کریم حفظ کرنے کے بعد حافظ صاحب جامعہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور ۱۹۸۴ء میں شاہد پاس کر کے گلگت اور شمالی علاقہ جات میں مربی مقرر ہوئے۔اسی دوران آپ کے دماغ میں ٹیومر ہو گیا۔کراچی میں آپ کا اپریشن بھی ہوا مگر صحت روز بروز گرتی گئی اور ۱۴ را کتوبر ۱۹۸۸ء کو آپ فضل عمر ہسپتال ربوہ میں وفات پاگئے۔موصی تھے اس لئے آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہوئی۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔مرحوم جوانی میں ہی عابد وزاہد اور تہجد گزار تھے۔آپ شادی شدہ نہیں تھے۔مرحوم کے والد مولوی غلام محمد صاحب کچھ ہی عرصہ پہلے مارچ 1999ء میں وفات پاچکے ہیں۔آپ کے بھائی ثناء اللہ نے بھی ربوہ سے بی اے پاس کیا ہے اور آپ کی چھوٹی ہمشیرہ خدیجہ محترم سید عبدالحئی شاہ صاحب کے زیر کفالت پل رہی ہیں۔نتر مدامتہ المتین صاحب اہلیہ محترم محمد افضل ظفر نبی اور ان کے بچے اب یہ آخری تذکرہ ہے ایک تازہ واقعہ کا۔محترمہ امتہ المتین صاحبہ اہلیہ محترم محمد افضل ظفر صاحب۔تاریخ وفات ۳ رمئی ۱۹۹۹ء محتر مہ امتہ المتین صاحبہ بنت چوہدری محمود احمد صاحب (عرضی نولیس وفات ۲۶ فروری ۱۹۷۸ء) ہمارے مبلغ نبی مکرم محمد افضل ظفر صاحب کی اہلیہ تھیں۔چوہدری محمود احمد صاحب عرضی نویس کو میں ذاتی طور پر بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔آپ سنڈیکیٹ میں بھی ملازم رہے جس میں میں ان دنوں انچارج ہوا کرتا تھا اور اس کے علاوہ وقف جدید میں بہت آنا جانا تھا۔بہت ہی نرم مزاج، خوش اخلاق، بہت ہی پیار کرنے والی طبیعت جس سے لوگوں کے دل موہ لیا کرتے تھے۔افضل ظفر صاحب انہی کے داماد تھے۔مئی سوموار کو محترم محمد افضل صاحب مربی سلسلہ کے اہل خانہ بیگم اور بچے ایک اور احمدی خاندان کے ساتھ لمباسہ سے سمندر کی طرف پکنک کے لئے گئے۔پکنک سمندر میں ایک جزیرے پر منائی گئی۔پکنک کے بعد سمندر کے اوپر چڑھنے کا وقت ہو چکا تھا۔چنانچہ سمندر میں جوش آچکا تھا اور لہریں بہت زور دکھا رہی تھیں۔چنانچہ جزیرے سے واپس آتے ہوئے اچانک کشتی ایک بڑی لہر سے ٹکرانے کے نتیجہ میں الٹ گئی اور کشتی پر سوار تمام افراد ڈوب گئے۔افسوس ہے کہ اس سانحہ میں جو آٹھ