شہدآء الحق

by Other Authors

Page 83 of 173

شہدآء الحق — Page 83

۸۳ اور آپ کی حیرت میں اضافہ ہو گا۔کہ اس وقت ملک کی مجموعی آمدنی دس کروڑ روپیہ سالانہ سے کسی طرح زیادہ نہ تھی۔سردار نصر اللہ خان اور سردار عنایت اللہ خان اور سردار حیات اللہ خان کو ارک شاہی میں نظر بند کر دیا گیا۔اور بعد میں سردار نصر اللہ خان کو ایک برج میں رکھا گیا۔کہتے ہیں اس صدمہ سے نصر اللہ خان کے دماغ کا توازن بگڑ گیا۔اور مختل الدماغ ہو گیا۔اور جس برج میں مقید تھا کچھ عرصہ کے بعد رات کے وقت حبس دم کر کے مارا گیا۔یہ واقعہ اسی ۱۳۳۷ھ کا ہے۔ڈاکٹر احمد بیگ ترک معاون ڈاکٹر منیر عزت بیگ سول ہسپتال کا بل نے آواخر اپریل ۱۹۱۹ ء میں آسٹروی دعوت کے موقع پر کابل میں کہا۔کہ میں نے بحکم امیر امان اللہ خان سردار نصر اللہ خان کو زہر کھلائی۔یہ شخص ۱۹۱۹ ء میں شاہی حکیم رہا۔اور دسمبر ۱۹۱۹ء میں سول ہسپتال کابل کا روح رواں تھا۔ایک روایت یہ ہے کہ قید خانہ میں سردار نصر اللہ خاں کے۔۔اس کو مارا گیا۔خدا جانے اصل واقعہ کیا ہے۔جس طرح سردار نصر اللہ خاں نے حضرت شہید کو پابہ جولاں کیا تھا۔اسی طرح پابہ جولاں ہوا۔جس طرح آپ کو ارک شاہی میں قید رکھا۔اسی طرح خودارک شاہی میں قید رکھا گیا۔اور جس طرح آپ کو بے گناہ قتل کرا دیا گیا۔ٹھیک اسی طرح خود بھی قتل ہو گیا۔اور جس طرح آپ کی قبر کو معدوم کرایا۔اسی طرح امیر امان اللہ خان نے اس کی قبر کو نا معلوم کر دیا۔ہم نے