شہدآء الحق

by Other Authors

Page 82 of 173

شہدآء الحق — Page 82

۸۲ جا گیروں پر قبضہ کر لیا جو اس وقت سردار نصر اللہ خان کے ساتھ سفر میں تھے۔اور اس کے ہاتھ پر بیعت کر چکے تھے۔اور اسلحہ اور خزانہ پر تصرف کر لیا۔ایک فرمان شاہی کا بل سے جلدی روانہ کیا گیا۔اور سردار نصر اللہ خان اور سردار عنایت اللہ خان اور مستوفی الممالک محمد حسین کو مطلع کیا گیا۔کہ آپ لوگ حکومت کے باغی اور میرے باپ کے قاتل ہیں۔سردار نصر اللہ خان فوراً دعویٰ امارت سے دست کش ہو۔اور سب پابہ جولاں حاضر دربار ہوں۔اور اپنی صفائی پیش کریں چنانچہ فرمان ملتے ہی سردار نصر اللہ خان اور اس کے ساتھیوں نے اپنے آپ کو بے بس پایا۔اور سردار نصر اللہ خان نے خلع امارت کیا۔اور تینوں پابہ جولاں کا بل لائے گئے اور ان کو نظر بند کر دیا گیا۔عزیز ہندی ہندی زوالِ غازی صفحہ ۱۲۳ میں لکھتا ہے کہ : قارئین کوسن کر حیرت ہو گی۔کہ غازی امان اللہ خان کی تخت نشینی پر جب امیر حبیب اللہ کے مستوفی الممالک محمد حسین کو پھانسی پر لٹکایا گیا۔تو اس کی کثیر التعداد غیر منقولہ جائداد کے علاوہ محض نقد روپیہ جو اس کے گھر سے برآمد ہوا۔وہ دس کروڑ تھا ا نصر اللہ خان نے افغانستان کی حکومت کا تاج ۲۱ فروری ۱۹۱۹ ء کو سر پر رکھا۔یکم مارچ ۱۹۱۹ء کو بحبق امیر امان اللہ خان تخت سے دستبردار ہوا۔۴ مارچ ۱۹۱۹ء کو جلال آباد سے پابہ جولاں کابل روانہ ہو گیا۔۳/ اپریل ۱۹۱۹ء کو کابل کے عام دربار میں مجرم قتل امیر حبیب اللہ خان قرار پا کر عمری قیدی ہوا۔سردار امان الله خان گورنر کا بل نے ۲۱ فروری ۱۹۱۹ ء کو عام دربار کا بل میں والد کے قتل کے حالات بتائے۔اور اسی دربار میں امان اللہ خان امیر منتخب ہوا۔۲۲ فروری کو شاہی فرمان اپنی امارت اور نصر اللہ خان کے عزل کا ارسال کیا ۲۷ فروری کو با قاعدہ دربار میں اپنی شاہی کا اعلان کیا اور تاج و تخت کا والی ہوا