شہدآء الحق

by Other Authors

Page 84 of 173

شہدآء الحق — Page 84

۸۴ بدوران سیر کا بل بہتیری کوشش کی۔کہ اس کی قبر کا پتہ ملے۔مگر کوئی صحیح موقعہ نہ بتا سکا۔کوئی تو شہر آرا کا قبرستان بتاتا۔کوئی عاشقانِ عارفان کا کوئی خواجہ صفا کا۔اور کوئی وہی پرانا قبرستان بتا تا تھا جس میں حضرت شہید کو قتل و رجم کیا گیا تھا۔وہ مستحق تھا۔خدائے غیور نے اس مغرور انسان کے ساتھ وہی سلوک کیا۔جس کا دیکھو زوال غازی صفحه ۲۸۵) آٹھواں پاداش ظلم ( قتل پسر سردار نصر اللہ خاں ): کچھ عرصہ بعد ۱۹۲۰ء میں امیر امان اللہ خان کو خیال گذرا - که افعی را کشتن و بچه اش را نگه داشتن درست نہ ہوگا پس اس نے سردار نصر اللہ خان کا اکلوتا فرزند ا بھی قتل کرا دیا۔اور اس طرح سردار نصر اللہ خان بحکم آیت ان شانئک هو الابتر - ابترا اور منقطع النسل ہو گیا - فـقـطع دابر القوم الذين لايؤمنون سردار نصر الله خان کی اکلوتی لڑکی عالیہ بیگم سے امیر امان اللہ خان نے ملکہ ثریا کے ڈر سے خفیہ نکاح کر لیا۔مگر بوقت عزل اور فرار از افغانستان اس کو طلاق دے دیا۔زوال غازی صفحه ۲۸۴ - ۲۸۵ گویا اس کی آخری یادگار لڑکی کا بھی انجام خراب ہوا۔عبرت ! عبرت !! عبرت !!! نواں پاداش ظلم : امیر حبیب اللہ خان کے ظلم سے حضرت شہید مرحوم کے لے سردار عزیز اللہ خان جو ۱۸۹۳ء میں تولد ہوا تھا۔اور اس وقت ۲۷ سالہ نو جوان تھا باپ کے ساتھ قید ہو کر جلال آباد سے آیا تھا۔