شہدآء الحق

by Other Authors

Page 71 of 173

شہدآء الحق — Page 71

اے ۱۹۱۹ء کو سر دربار قتل کر دیا۔کہتے ہیں کہ شجاع الدولہ جو غلام بچہ تھا اس کو امیر امان اللہ خاں اور اس کی والدہ علیا حضرت نے امیر حبیب اللہ خان کے قتل پر مقرر کیا تھا۔اس کے صلہ میں اس کو امیر الحیش مقرر کیا واللہ اعلم بالصواب۔فصل هشتم مظالم کا خمیازہ بھگتنا خداوند ذوالجلال ذوالجبروت کا غضب اور غصہ آخر جوش میں آیا۔چونکہ وہ اپنے انبیاء اور ان کے مومنین کے واسطے نہایت غیور ہے، اور عزیز اور ذ وانتقام ہے۔ان مظالم کابل کا خمیازہ ظالموں کو پاداش ظلم میں بھگتا نا شروع کر دیا۔پہلا پاداش ظلم ( وباء ہیضہ ) : حضرت عبداللطیف کے شہادت کے دوسرے دن یعنی ۱۵ جولائی ۱۹۰۳ء کو شہر کابل اور اردگرد کے علاقوں میں اچانک اور خطر ناک ہیضہ پھوٹ پڑا۔جس سے روزمرہ تین چار سو آدمی ہلاک ہونے شروع ہوئے۔اور لوگوں پر سخت ہیبت طاری ہوگئی۔سردار نصر اللہ خان کی بیوی ! اور ایک نوجوان لڑکا ہیضہ سے ہلاک ہوئے۔اور سردار نصر اللہ خان کو عبرت دلائی گئی اور آیت فان له جهنم لايموت فيها ولا يحى كا نظاره اس کے دل میں قائم ہو گیا۔ہیضہ کی خطرناک صورت کا تذکرہ مسٹرانگس ہملٹن ا دختر سردارمحمد اسلم خان ولد سردار محمد اصغر خاں ولد سردار مہر دل خاں ولد پائند ہ خان تھی۔