شہدآء الحق — Page 70
شاہ کا بل کی ریاست میں مریں گے عنقریب دمی اس کی رعایا میں سے پچاسی ہزار جیسا کہ حضرت احمد مسیح موعود علیہ السلام نے پیشگوئی کی تھی اور جیسا کہ ہم نے زیر خط کشیدہ مصرعوں میں پیش خبریاں نظم کی تھیں۔خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے حرف بحرف ان کو نہایت رعب اور جلال اور شان وشوکت سے پورا کیا۔واقعہ قتل امیر حبیب اللہ خان: امیر حبیب اللہ خان بمعہ سردار نصر اللہ خان اور سردار عنایت اللہ خان اور جرنیل محمد نادر خان اور علیا حضرت ملکہ افغانستان اور کمانڈر انچیف سردار محمد حسین خان سیر جبال گله گوش و نعمان پر نکلے۔اور بمقام گلہ گوش پغان پر کیمپ لگایا گیا اور بادشاہ اور بیگم ایک خیمہ میں سوئے۔اور رات کے وقت خدا کا فرشتہ پیغام اجل لایا۔اور موت کے پستول نے امیر حبیب اللہ خان کا دماغ پارہ پارہ کر دیا۔اور سوئے کا سو یا دائمی نیند سورہا۔اور یہ واقعہ بروز جمعرات ۲۰ فروری ۱۹۱۹ء کو ہوا مطابق ۱۸ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ۔ہمارے محترم بھائی قاضی مظہر الحق صاحب احمدی ساکن کوٹ نجیب اللہ ہزارہ نے اس واقعہ پر زیر عنوان افغانستان میں خدا کا ایک جلالی نشان“ پر اخبار الفضل مورخہ ۴ مارچ ۱۹۱۹ ء میں مضمون لکھا۔مذکورہ الصدر اشعار کو دوبارہ شائع کیا۔گویا کہ یہ اخبار پورے تین ماہ کے اندر پورے ہو گئے۔جزاہ اللہ احسن الجزاء۔امیر امان اللہ خان نے علی احمد غلام بچہ کو بجرم مقتل امیر حبیب اللہ خان جبس دوام کی سزا دی اور کرنل علی رضا پسر سالا رسید شاہ خان کو ۱۲ / اپریل