شہدآء الحق — Page 116
براہ قندھار چمن اور کوئٹہ ہندوستان آیا۔اور یورپ کو جاتا رہا۔ان لوگوں کو در عدن کو ضبط کرانے اور راقم کو مقدمات میں پھنسانے کی نیت سے یہ سوجھا کہ اچھا موقع ہاتھ آیا ہے۔اور یہ ہاتھ سے جانے نہ پائے۔تب انہوں نے اس طرح ایک ناپاک پراپیگینڈا لاہور کے ایک اخبار میں شروع کیا کہ اعلیٰ حضرت امیر امان اللہ خان مسلمانوں کا بادشاہ ہے اور سات کروڑ مسلمانانِ ہند کا محبوب ہے۔اور قیصر ہند کا مہمان ہو کر ہندوستان آیا۔اور عین اسی وقت قاضی محمد یوسف نے سرکاری ملازم ہو کر اس کے خلاف در عدن شائع کی اور اس میں امیر امان اللہ خان کو گالیاں دی گئیں۔اور بُرا کہا گیا اور اس کی ہتک کی گئی۔لہذا گورنمنٹ برطانیہ اس کو گرفتار کرے اور اس پر مقدمہ چلائے۔اور اس کو سخت سے سخت سزا دے۔لاہور کے ایک اخبار نے خود بھی اس پر بار بار مضامین لکھے۔اور دوسرے اخبارات نے۔اس پر برابر مضامین لکھے۔اور خوب زور لگایا۔پشاور کے ایک صاحب جو ایک پینشنز انسپکٹر آف پولیس تھے۔اور جماعت کے مخالف تھے اور ان کے ساتھیوں۔۔وغیرہ نے خاکسار کے خلاف پور از ورقلم صرف کیا۔جواناپ شناب آیا لکھا۔اور دل میں خیال کیا کہ بس وہ چاروں طرف سے ہم کو گھیر چکے ہیں۔اور اب زمین پر ہم کو ان کی گرفت سے کوئی نہ بچا سکے گا۔مگر جس کا خدا محافظ ہو۔بھلا اس کا کوئی کیا بگاڑ ہے اور یہ نادان اس قدر بے خبر تھے۔کہ خاکسار نے جو کچھ امیر امان اللہ سکتا۔خان کے بارہ میں لکھا تھا۔وہ تو صرف بطور پند و نصیحت تھا۔کہ محض اختلاف