شہدآء الحق — Page 117
112 - عقائد یا خیالات پر چند مظلوم مسلمانوں کو بدترین سزا دی۔اور ان کو بے گناہ قتل کر دیا۔خدا اور قیامت سے نہ ڈرا۔یہ خونِ ناحق آخر رنگ لائے گا۔اور دنیا کے واسطے درس عبرت چھوڑ جائے گا۔خدا کا ہاتھ اور اس کا فیصلہ : انہوں نے سلطنت برطانیہ کے منصف مزاج اور انسانیت پرور مہذب افسروں کو بھی اپنی طرح کور دل اور بد باطن خیال کیا تھا۔کہ وہ ان کی لغو تحریرات سے متاثر ہوں گے۔مگر ہمارا خدا جو غیور خدا ہے۔اور ایک مومن کے واسطے اس کو بڑی غیرت ہے۔اس نے ایک طرف افسرانِ برطانیہ کو عدل و انصاف پر قائم رکھا نہ ہم سے کوئی قانونی گرفت درست سمجھی۔اور نہ ہماری ملازمت کو کوئی نقصان پہنچ سکا۔اور نہ ان بدطینتوں کو خوشی کا موقعہ دیا بلکہ ان کے اس۔محبوب کو بعد از مراجعت سفر افغانستان کے تخت و تاج سے محروم کر کے کابل سے ہمیشہ کے واسطے رخصت کر دیا۔اور یہ اسی سال کے آخری حصہ میں کر دکھایا۔اور سب جان نثار اپنا سا منہ لے کر دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ گئے۔جن اشعار کی بنا پر اس قدر شور مچایا تھا۔وہ یہ تھے۔ناظرین خود انصاف کریں کہ اس میں کونسی گالی یا بد زبانی استعمال ہوئی ہے۔یا کون سی ہتک کی گئی۔یا صرف بطور ہمدردی امیر امان اللہ خان کے ظلم پر اظہار افسوس اور نصیحت کی گئی ہے۔خانه ظلم است ویران ظالم مظلوم گش خانہء خود چوں ز دست خویش ویراں کردہ